omar abdullah

نیشنل کانفرنس بی جے پی کیخلاف لڑنے کیساتھ ساتھ لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے پُرعزم/عمر عبداللہ

سرینگر // گذشتہ10سال سے جموں وکشمیر کے عوام کو مایوسی، تباہی ،پریشانی اور بدحالی کے سوا کچھ نہیںملا اور ایک لمبے عرصہ کے بعد یہاں کے عوام کا اپنی عوامی حکومت بنانے کا موقعہ فراہم ہوا ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے کہا کہ آج ہم خود کو عوام کے سامنے اس اُمید کیساتھ پیش کررہے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں آپ اپنے نمائندوں کا فیصلہ کریں اور اپنے ووٹ کا استعمال کرکے اُن نمائندوں کو اپنی نمائندگی کرنے کیلئے چُنے جو آپ کے حقوق اور جموں وکشمیر کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کیلئے لڑنے کے قابل ہوں اور ساتھ آپ کے روز مرہ کے مسائل و مشکلات کا ازالہ کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔سی این آئی کے مطابق چنائوی مہم جاری رکھتے ہوئے ڈی ایچ پورہ نورآباد کولگام اور عیشمقام پہلگام میں فقید المثال عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ لوگ آج پھر سے میدان میں ہیں ، جن کو اقتدار کے سوا کچھ نہیں دکھتا، جن لوگوں نے 10سال قبل یہاں کے عوام سے بی جے پی کیخلاف ووٹ طلب کئے اور پھر اُنہی بی جے پی والوں کی گود میں جاکر بیٹھ گئے۔ اُس وقت کہا گیا کہ بی جے پی کو باہر رکھنے کیلئے قلم دوات کو ووٹ دینا ضروری ہے اور انہوں نے اسی نعرے پر ووٹ حاصل کئے، قلم دوات کی جیت ہوئی، اور الیکشن نتائج کے فوراً بعد پی ڈی پی والے بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے، جس کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے اُس وقت ان قلم دوات والوں کو غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا اور ان سے درخواست کی کہ بی جے پی کیساتھ اتحاد مت کیجئے یہ خطرناک ثابت ہوگا لیکن یہ لوگ نہیں مانے اور ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ بی جے پی کیساتھ اتحاد کیا ، جس کا بہت ہی زیادہ خمیازہ جموںوکشمیر کے عوام کو بھگتا پڑا اور آج بھی بھگت رہے ہیں۔ ان 10برسوں میں ہمارا جھنڈا، ہمارا آئین، ہماری پہچان، ہمارا وجود، ہمارا وقار سب کچھ ہم سے چھینا گیا۔ پچھلی بار جب ہم نے ووٹ مانگے تھے، ہماری اپنی ریاست تھی، ہمارا اپنا درجہ تھا، لداخ ہماری ریاست کا حصہ تھا، آج نہ لداخ ہے، نہ ریاست ہے ، اور نہ ہی خصوصی پوزیشن ، آج ہمیں ایک یو ٹی کے درجے پر پہنچایا گیا ہے۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ جو اسمبلی یہاں بننے جارہی ہے اُس میں وہ طاقت نہیں جو ہمیں چاہتے ہیں، لیکن انشاء اللہ آپ کے ووٹوں سے نیشنل کانفرنس کی اکثریت ہوگی اور ہم اس اسمبلی کو واپس طاقتو ربنائیں گے۔ اگر ہمیں مرکز سے لڑ جھگڑ کر بھی ریاست کا درجہ حاصل کرنا پڑے تو انشاء اللہ ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پچھلے 10سال ضائع ہوگئے، یہاں نہ تعمیر و ترقی ہوئی اور نہ ہی لوگوں کی فلاح وبہبودہوئی، آج ہمارے نوجوانوں بے روزگار بیٹھے ہیں، تعلیم کے نظام کا حال آپ کے سامنے ہے، طبی شعبے کی حالت بھی غیر ہے، بجلی، مہنگائی، راشن کی کمی سے لوگ پریشان ہیں اور نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں ان سب مسائل کا حل ڈھونڈ نکالنے کا وعدہ کیا کیونکہ صرف بی جے پی کیخلاف ووٹ ڈال کر آپ کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ہم بی جے پی کیخلاف لڑنے کیساتھ ساتھ جموں و کشمیر کو وہ راحت دینے کیلئے پُرعزم ہیں جس کا انتظار وہ 10سال سے کررہے ہیں۔اس موقعے پر پارٹی ٹریجرر شمی اوبرائے، جنوبی زون صدر سید توقیر احمد اور ضلع صدر کولگام صفدر علی خان اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔