PM Modi attends a public meeting for the J&K Assembly elections

خاندانی راج کی سیاست نے جموں و کشمیر کو تباہ کر دیا، ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے ہم وعدہ بند

ہم مل کر ایک محفوظ اور خوش حال جموں و کشمیر بنائیں گے اور یہ ہماری ضمانت ہے/ وزیر اعظم مودی

سرینگر // جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے ہم وعدہ بند ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ملی ٹنسی آخری سانس لی رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی انتخابات جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وقت یاد ہوگا جب دن ختم ہوتے ہی یہاں غیر اعلانیہ کرفیو لگا دیا جاتا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ مرکز کی کانگریس حکومت کے وزیر داخلہ بھی لال چوک جانے سے ڈرتے تھے لیکن ہمارے دور میں امن قائم ہوا اور رات دیر گئے تک بازاروں میں رش دیکھنے کو ملتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ نزدیک آتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں کے ڈوڈہ ضلع میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کیا جس دوران انہوں نے عبداللہوں، مفتیوں اور گاندھیوں پر جموں و کشمیر کو برباد کرنے کا الزام لگاتے کہا کہ جموں کشمیر میں دہشت گردی اپنے آخری دن گن رہی ہے اور آنے والے انتخابات جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس نے گزشتہ سات دہائیوں سے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا تاکہ صرف اپنی دکانیں چلائی جا سکیں۔انہوں نے کہا ’’ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اپنے آخری دن گن رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں آنے والے انتخابات یوٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد جموں و کشمیر بیرونی طاقتوں کے لیے چشم کشا بن گیا اور انہوں نے سازشیں شروع کر دیں۔ اس کے بعد خاندانی راج کی سیاست نے جموں و کشمیر کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس 2000 سے جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔ مودی نے کہا ’’ یہ بی جے پی حکومت تھی جس نے جمہوریت کو نچلی سطح تک پہنچانے کو یقینی بنایا۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ب آنے والے انتخابات تین خاندانوں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے درمیان براہ راست لڑائی ہے جو اپنے خوابوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔ ‘‘ مودی نے کہا کہ جو نوجوان پولیس اور فورسز پر پتھراؤ کرنے کے لیے پتھر اٹھاتے تھے وہ اب بڑا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عمارتوں کی تعمیر کیلئے پتھروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کا کام بی جے پی ہی کرے گی۔ انہوں نے کانگریس کا نام لیے بغیر کہا کہ اب یہ آئین کو اپنے جیب میں رکھتے ہیں۔ ورنہ کیا مقصد تھا کہ جموں و کشمیر میں دو آئین تھے جس سے یہاں کے لوگوں کو مرکزی اسکیموں کا فائدہ نہیں پہنچتا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا’’ آپ کو وہ وقت یاد ہوگا جب دن ختم ہوتے ہی یہاں غیر اعلانیہ کرفیو لگا دیا جاتا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ مرکز کی کانگریس حکومت کے وزیر داخلہ بھی لال چوک جانے سے ڈرتے تھے۔ جموں و کشمیر میں اب دہشت گردی اپنی سانسیں لے رہی ہے‘‘۔وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب یہاں کے نوجوان بہتر تعلیم کے لیے ملک کی دوسری ریاستوں میں جانے پر مجبور تھے، آج میڈیکل کالج ہو، ایمز ہو یا آئی آئی ٹی ،مجموں وکشمیر میں سیٹیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ مرکز کی بی جے پی حکومت یہاں رابطے کو بھی مضبوط کر رہی ہے تاکہ سیاحت کو مزید وسعت ملے اور آپ لوگوں کے لیے سفر کرنا آسان ہو جائے۔ انہوں نے کہا ’’ میں آپ کے اس پیار اور احسان کا بدلہ آپ اور ملک کے لیے دو تین گنا محنت کرکے چکاؤں گا۔ ہم مل کر ایک محفوظ اور خوش حال جموں و کشمیر بنائیں گے اور یہ مودی کی ضمانت ہے۔ ہم نے 2014 میں مرکز میں برسراقتدار آنے کے فوراً بعد جموں و کشمیر میں نوجوان قیادت کی تشکیل پر توجہ مرکوز کی‘‘۔وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات مرکز کے زیر انتظام علاقے کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔اس بار جموں و کشمیر کے انتخابات جموں و کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔آزادی کے بعد سے، ہمارے پیارے جموں و کشمیر کو بیرونی طاقتوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے بعد، خاندانی سیاست نے اس خوبصورت ریاست کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیا ہے۔