عمر رسیدہ افراد اور مریضوں کے گھر جاکر جانچ پڑتال کاکام مکمل کیا جاتاہے ۔ صدر ٹریجری حکام
سرینگر// پنشنرس کو ٹریجریوں میں پریشانی اور ان کے ساتھ بُرا سلوک کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے صدر ٹریجری کے حکام نے بتایا ہے کہ ٹریجری میں پنشنرس کے ساتھ بہتر ڈھنگ سے پیش آیا جاتا ہے اور ان کی سہولیات کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جاچکے ہیں ۔ جبکہ 80سے زائد عمر والے افراد یا بیمار اور جسمانی طور کمزور پنشنروں کے گھروں میں جاکر لوازمات پورئے کئے جاتے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں پنشنروں کو ٹریجری دفاتر میں حاضر ہونے اور وہاں پر جانچ پڑتال مکمل کرنے ضمن میں پنشنروں کی جانب سے اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ انہیں ٹریجریوں میں ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر بُرا سلوک کیا جاتا ہے ۔ تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے صدر ٹریجری سرینگر کے حکام نے بتایا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ٹریجروں میں پنشنروں کیلئے سہولیات بہم رکھی گئی ہے ۔ ان کے بیٹھنے کیلئے نئے صوفے لگائے گئے ۔ انہیں جوس اور پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ملازمین پنشنروں کے ساتھ بہتر ڈھنگ سے نہ صرف پیش آتے ہیں بلکہ ان کو لوازمات پورا کرنے کیلئے ان کے ساتھ بھر پور تعاون بھی کرتے ہیں ۔ اس دوران انہوںنے بتایا کہ صدر ٹریجری کے تحت 7ہزار پنشنرس ہیں جن میں سے 4697سے زائد پنشنروں کی جانچ پڑتال کاکام مکمل کیا گیا ہے جبکہ 40سے زائد پنشنروں کے گھر جاکر عملہ نے جا نچ پڑتال کا کام کیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ستمبر کے آخر تک پنشنرس کو یہ لوازمات پورئے کرنے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ ٹریجروں میں قریب قریب نصف سے زیادہ معاملات حل کئے گئے ہیں اور جو باقی ماندہ ہیں ان پر بھی کام جاری ہے ۔ صدر ٹریجری کے ذمہ دار وں نے مزید بتایا کہ ہم یہاں پر کبھی کبھی صبح 9بجے سے شام 6یا سات بجے تک بھی پنشنرورں کا کام انجام دیتے ہیں کیوںکہ اگر یہاں پر پنشنروں کی تعداد زیادہ ہو تو وقت لگتا ہے ہم کسی کو الگے روز یا کسی اور دن آنے کو نہیں کہتے بلکہ جتنے افراد یہاں ہوتے ہیں ان کا کام مکمل کرکے ہی دفتر سے نکلتے ہیں۔ انہوںنے مزید بتایا کہ ہم میڈیا کی وساطت سے پنشنروں کو یقین دلاتے ہیںکہ ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران ان کے ساتھ عملہ بھر پور تعاون کررہا ہے ۔










