’نمائندگی عوام کے ووٹ سے حاصل ہونی چاہیے

جموں کشمیر میں دس برس بعد مجوزہ انتخابات

بی جے پی کا زور جموں ڈویڑن پر رہے گا، قوم پرستی کا مسئلہ ہو گا۔ شاہ ندا ملاقات

سرینگر///جموں و کشمیر میں دس سال بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اقتدار کی چابی برقرار رکھنے کے لیے بی جے پی کا زور ایک بار پھر جموں ڈویڑن پر رہے گا۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں دس سال بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اقتدار کی چابی برقرار رکھنے کے لیے بی جے پی کا زور ایک بار پھر جموں ڈویڑن پر رہے گا۔ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کئی دہائیوں سے جموں پر وادی کشمیر کو دی جانے والی ترجیح کو ایک اہم مسئلہ بنائے گی اور دفعہ 370 اور دفعہ 35A کے خاتمے کا مسئلہ زور سے اٹھائے گی۔ اس سلسلے میں فیصلہ جمعہ کو ہونے والی دو اہم میٹنگوں میں کیا گیا۔پہلی میٹنگ صبح وزیر داخلہ امیت شاہ کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اس میٹنگ میں رام مادھو اور جی کشن ریڈی سمیت کچھ قائدین کے ساتھ میراتھن میٹنگ کی گئی جنہیں انچارج بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد شام کو پارٹی صدر جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر شاہ کی موجودگی میں جموں و کشمیر کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اجلاس میں امیدوار بنانے کے معیار پر بھی غور کیا گیا۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ میں ایک بار پھر انتخابی حکمت عملی کو جموں ڈویڑن پر مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی حکمت عملی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پارٹی نے 2014 کی طرح اس ڈویڑن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو پہلے کی طرح اس الیکشن میں بھی پارٹی کنگ میکر کے کردار میں رہے گی۔ ایسے میں پارٹی آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں ڈویڑن میں ہونے والی تبدیلیوں اور نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کے ذریعہ جموں ڈویڑن کو کئی دہائیوں سے نظر انداز کرنے کو ایک بڑا مسئلہ بنائے گی۔جموں ڈویڑن میں بہتر کارکردگی کے لیے پارٹی کا زور ہندوتوا اور قوم پرستی پر رہے گا۔ پارٹی اس ڈویڑن کے ووٹروں کو بتائے گی کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں کو کتنا فائدہ ہوا۔ اس دوران پارٹی شہریت ترمیمی قانون کو بھی ایک مسئلہ بنائے گی۔ اسمبلی انتخابات میں پہلی بار ایس ٹی ریزرویشن نافذ کیا گیا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارٹی اسے بھی بڑا ایشو بنائے گی۔