موجودہ حکومت میں شہری ملکی تاریخ کی سب سےمہنگی بجلی خریدنے پرمجبور ہوگئے جب کہ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے ماہ میں ملک کا اوسط فی یونٹ بجلی ٹیرف سب سےزیادہ 42 روپے 59 پیسے پر پہنچنےکا انکشاف ہوا ہے۔ پاور ڈویژن نے مالی سال دو ہزار تئیس، چوبیس کے دوران ملک کی اوسط فی یونٹ بجلی ٹیرف کی تفصیلات سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو آگاہ کردیا ہے۔ پاور ڈویژن کی دستاویز کےمطابق گذشتہ مالی سال کے دوران مارچ2024 میں ملک کا اوسط فی یونٹ بجلی کا ٹیرف سب سے زیادہ 42روپے59 پیسے پر پہنچ گیا تھا، ملک کےاوسط فی یونٹ ٹیرف میں بجلی کی بنیادی قیمت، ماہانہ اور سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹس شامل تھیں۔ دستاویز کے مطابق مارچ 2024کے دوران ملک کےاوسط فی یونٹ ٹیرف میں بنیادی قیمت کا حصہ 28 روپے 35 پیسے، ماہانہ ایڈجسٹمنٹ7 روپے ایک پیسہ، سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ 4 روپے40 پیسے تھا جب کہ اس میں ڈی ایس ایس کا حصہ فی یونٹ 2روپے 83 پیسے تھا۔ دستاویز کے مطابق گذشتہ مالی سال 2023۔24 کے دوران ستمبر2023 میں ملک کا اوسط فی یونٹ بجلی ٹیرف سب سےکم 33 روپے 66 پیسے رہا تھا۔










