سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج وادی کے مختلف اَضلاع میں مائیگرنٹ کشمیری پنڈت کمیونٹی کے پی ایم پیکیج ملازمین کے لئے تعمیر کی جانے والی ٹرانزٹ رہائش گاہوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری داخلہ ، کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے،سیکرٹری آر اینڈ بی، سیکرٹری ڈی ایم آر آر اینڈ آر،ریلیف کمشنر، چیف اِنجینئران اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ چیف سیکرٹری نے عمل آوری ایجنسیوں کی طرف سے اَب تک مکمل کئے گئے فلیٹوں کا نوٹس لیا اور ان سے ان فلیٹوں کی تکمیل کی ٹائم لائن کے بارے میں دریافت کیا۔اَتل ڈولونے وادی کے مختلف اضلاع میں 12 مقامات میں سے ہر ایک پر اُٹھائے گئے بلاکوں کی صورتحال کے بارے میں معلوم کیا۔ اُنہوں نے ہر منصوبے میں ہونے والی فزیکل پیش رفت اور یہ کام ہر لحاظ سے مکمل ہونے والے وقت کے بارے میں بھی پوچھا۔اُنہوں نے ان تمام بلاکوں کو ان کے لئے مقررکردہ ڈیڈ لائن کے مطابق بغیر کسی ناکامی کے مکمل کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے ریلیف کمشنر کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اہل اُمیدواروں کو فرنشڈ فلیٹس فوری طور پر الاٹ کریں۔ اُنہوں نے اُن کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے دیگر کاموں کو بھی شروع کرنے پر زور دیا۔سیکرٹری ڈی ایم آر آر اینڈ آر انیل کول نے اَپنی ایک تفصیلی پرزنٹیشن میں پوری سکیم کا جائزہ پیش کرنے کے علاوہ اِن پیکیج ملازمین کے لئے اِضافی رہائش کی تخلیق میں مقام کے لحاظ سے پیش رفت فراہم کی۔یہ بھی بتایا گیا کہ اتنے ہی ملازمین کے لئے بنائے جانے والے کل 6,000 فلیٹس میں سے تقریباً 4,800 کو پہلے ہی مختلف مقامات پر مکمل کیا جا چکا ہے۔میٹنگ میں مزید اِنکشاف کیا گیا کہ اَب تک 2,088 فلیٹس کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جن میں سے 998 فلیٹس حقیقی درخواست دہندگان کو الاٹ کئے جاچکے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ 2,712 فلیٹس پر کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اُنہیں اگلے چند ماہ میں الاٹمنٹ کے لئے سونپ دیا جائے گا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ رواں برس اپریل کے آغاز سے اَب تک 536 نئے فلیٹس کی تعمیر کی جاچکی ہے اور 392 فلیٹس بھی مکمل کئے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں اس عرصے کے دوران تقریباً 144 فلیٹس کا اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں،میٹنگ میں کشمیری مائیگرنٹ کنبوں کو این ایف ایس اے ڈیٹا بیس میں شامل کرنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ اُنہیں مختلف سماجی تحفظ کے فوائد فراہم کئے جاسکیں۔میٹنگ میں ایم ایچ اے کی طرف سے مائیگرنٹ کے لئے دئیے گئے پیکیج پر بھی بات چیت ہوئی جن میں 1947،1965،1971 کے برسوں سے تعلق رکھنے والے اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔










