garmi

1999کے بعد جمعرات کا دن سب سے گرم ترین دن رہا درجہ حرارت 35.7تک پہنچا

لوگوں کو شدید گرمی سے راحت ملنے کی امید،محکمہ موسمیات نے وادی میں بارشوں کی پیش گوئی کی

سرینگر//وادی میں جھلستی گرمی کے بیچ سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7ڈگری سیسلیس ریکارڈ کیا گیا جو 1999کے بعد سب سے زیادہ رہا ہے جبکہ 1946میں سرینگر نے 38.3ڈگری تک درجہ حرارت دیکھا ہے ۔ ادھر وادی میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات نے لوگوں کو ذہنی طور پر راحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے اور چار جولائی سے موسم میں بدلائو آنا شروع ہوجائے گا۔ ادھر جمعرات کو بھی پارہا 35اعشاریہ 7ڈگری سلییس ریکارڈ کیا گیا اس طرح سے آج بھی سرینگر میں گرمی کی لہر جاری رہی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں جھلسا دینے والی گرمی کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد سرینگر میں جمعرات کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7ریکارڈ کیا گیا ہے جو اب تک کا گرم ترین دن ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں جھلستی گرمی کے بیچ سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.7ڈگری سیسلیس ریکارڈ کیا گیا جو 1999کے بعد سب سے زیادہ رہا ہے جبکہ 1946میں سرینگر نے 38.3ڈگری تک درجہ حرارت دیکھا ہے ۔ 3جولائی 2024کو وادی میں 35.6ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2005-06کو قریب قریب 35.6ڈگری تک درجہ حرارت رہا ہے ۔ اس بیچ جموں و کشمیر میں شدید گرمی جاری رہنے کے بعدمحکمہ موسمیات سری نگر نے جمعرات کو بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں وقفے وقفے سے ہلکی سے اعتدال پسند بارشیں ہوں گی، 4-6 جولائی کے دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش ہوگی۔موسمیات کے ماہر نے یہ بھی کہا کہ 7 جولائی کو صبح سویرے جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں مختلف شدت کے ساتھ بارش بھی دیکھی جائے گی۔دریں اثنا، پوری وادی میں گزشتہ رات درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، سرینگر میں گزشتہ رات کا 17.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں 23.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیاجبکہ دن کے درجہ حرارت میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ دریں اثناء جنوبی کشمیر کے کچھ حصوں سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں دن بھر مطلع ابرآلود رہا تاہم گرمی کی لو جاری رہی ۔