میڈیکل انٹرنس کے لیے ہوئے نیٹ امتحان میں بے ضابطگی اور پیپر لیک کا معاملہ لگاتار سرخیوں میں ہے۔ روزانہ نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے این ٹی اے (نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی) اور مرکزی حکومت کٹہرے میں کھڑا دکھائی دے رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑا انکشاف یہ ہوا ہے کہ نیٹ کا پیپر جھارکھنڈ واقع ہزاری باغ واقع ایک سنٹر سے لیک ہوا تھا۔
دراصل بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ملے جلے ہوئے سوال نامہ میں شائع بک لیٹ کے کوڈ کی بنیاد پر یہ جانکاری نکلی ہے۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں ایک بڑی خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کلیدی ملزم سکندر یادویندو نے 4 امتحان دہندگان کے لیے سوال نامہ کا انتظام کرنے کی بات کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امتحان سے ایک دن قبل امتحان دہندگان کو جواب یاد کرانے کے لیے کہا گیا تھا۔ بھتیجے انوراگ یادو سمیت ہر امیدوار سے 40لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے کہا کہ ’’میں نے نتیش اور امت سے رابطہ کیا تھا۔ انھیں بتایا تھا کہ میرے پاس 4 امتحان دہندگان آیوش کمار، انوراگ یادو، ابھشیک کمار اور شیونندن کمار ہیں۔‘‘ یادویندو کا کہنا ہے کہ نتیش اور امت نے ہر امتحان دہندہ سے 32لاکھ روپے لیے۔ انھیں پہلے سے سوال نامہ دستیاب کرانے کا بھروسہ دیا۔ 4 مئی کو سبھی 4 امتحان دہندگان کو ایک گیسٹ ہاؤس میں بلایا گیا۔ وہاں نتیش اور آنند نے جواب یاد کرانے میں ان کی مدد کی۔










