سری نگر//کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے سول سیکرٹریٹ میں تمام محکموں کے نامزد نوڈل افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں سرکاری عمارتوں پر سولر روف ٹاپ پاور پلانٹس کی تکمیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، سی اِی او جیکڈا، ایگزیکٹیو اِنجینئرجے اے کے اِی ڈی اے( جیکڈا) اور اے ایچ اے سولر ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے کنسلٹنٹوں نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹری نے بتایا کہ سرکاری عمارتوں کو صد فیصد سولرائز کرنے کے لئے دوجہتی حکمت عملی اَپنائی جا رہی ہے۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ سولرائز ہونے والی 22,494 سرکاری عمارتوں میں سے 70 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت والی 8,792 نمبروں کو کیپیکس موڈ میں 350 کروڑ روپے کی لاگت سے سولرائز کیا جائے گاجس کے لئے جے اے کے اِی ڈی اے( جیکڈا) نے ٹینڈر جاری کیا ہے جبکہ 175 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کی 7,039 عمارتوں کو سولر پاور ڈویلپرز( ایس پی ڈیز )کے ذریعے ٹیرف پر مبنی بولی سے عملانے کے آر اِی ایس سی او موڈ کے تحت سولرائزیشن کے لئے لیا جائے گا۔میٹنگ کو بتایاگیا کہ اَب تک 3,825 سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا جا چکا ہے جو کہ 17 فیصد کے برابر ہے۔تمام محکموں کے نمائندوں نے منصوبے کے لئے باضابطہ رضامندی دی اور جی اے کے اِی ڈی اے ( جیکڈا) کو اَپنے متعلقہ کیپیکس بجٹ میں سے اَپنے فنڈمیں حصہ اَدا کرنے کا یقین دِلایا۔واضح رہے کہ اِس سکیم کے تحت سولر پاور پلانٹس کو نیٹ میٹرنگ کی بنیاد پر یوٹیلیٹی گرڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ سمارٹ میٹردو طرفہ فیچر کے ساتھ فعال ڈسکامز(ڈِی آئی ایس سی او ایم ایس) کے ذریعے فراہم کئے جائیں گے ۔ورچوئل نیٹ میٹرنگ (وِی این ایم) کا فائدہ ڈسکامز( ڈِی آئی ایس سی او ایم ایس) کے ذریعے ان محکموں کو منتقل کیا جائے گا جہاں کسی مخصوص سائٹ پر سولر پاور پلانٹوں سے پیدا ہونے والی اِضافی توانائی کو اِسی محکمہ کی دیگر سائٹوں کیس اتھ ایڈ جسٹ کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دسمبر 2025 ء تک مکمل ہو جائے گا۔سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن مختلف قومی اور بین الاقوامی وعدوں کے تحت قابل تجدید بجلی کی ذمہ داریوں کو حاصل کرنے کے لئے محکموں کی توانائی کے بِلنگ اور فوسل فیول پر اَنحصار میں کمی آئے گی۔سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن سے محکموں کی توانائی کی بِلنگ میں کمی آئے گی اور مختلف قومی اور بین الاقوامی وعدوں کے تحت قابل تجدید توانائی کی ذمہ داریوں کو حاصل کرنے کے لئے فوسل فیول پر انحصار میں کمی آئے گی۔جموں و کشمیر سالانہ تقریبا 400 ملین یونٹ کلین اَنرجی کی پیداوار سے فائدہ اُٹھائے گا اور اِس پروجیکٹ کے 25 برس میں 10,000میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔کیپکس موڈ میں سرمایہ کاری توانائی کی بچت کی وجہ سے تقریباً 4 سال کی ادائیگی کی مدت کے ساتھ سالانہ 25 فیصد کی شرح سے وصول کی جائے گی جبکہ سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے آر اِی ایس سی او موڈ کے تحت بِل کی رقم کا 50 فیصد بچایا جائے گا۔ اِس اکاؤنٹ پر محفوظ کردہ مجموعی فنڈز جموں و کشمیر یوٹی میں دیگر ترقیاتی کاموں کے لئے اِستعمال کئے جا سکتے ہیں۔










