اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کو تنازعات کے دوران بچوں کو نقصان پہنچانے والوں کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں 15ہزار 500سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر جائز ہے، یہ رپورٹ 18 جون کو جاری کی جائے گی۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ ہے مسلح تصادم میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں اسرائیل کو شامل کرنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا مکمل طور پر جائز قدم ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سکریٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے کہا کہ اسرائیل کو اس شرمناک فہرست میں شامل کرنے کے لیے غزہ میں 15 ہزار بچوں کے مرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا۔
مغربی ایشیا میں توانائی تنصیبات پر حملوں کی بھارت کی مذمت
خامنہ ای کے قتل کے باوجودایرانی حکومت قائم
ایران اگر قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ پارس گیس فیلڈ تباہ کردے گا : ٹرمپ
ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور
جنگ کا نیا مرحلہ شروع، ہمیں توانائی تنصیبات پر حملے کیلئے مجبور کیا گیا: پاسداران انقلاب
اسرائیلی دباؤ پر جنگ چھیڑ دی گئی، ٹرمپ کے مستعفی مشیر کا بیان
حسین دہقان ایرانی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سکریٹری مقرر
کیرالا کے الپوڑا میں برڈ فلو‘ 6 ہزار پرندوں کو تلف کرنے کا فیصلہ
داؤد ابراہیم کی آبائی زمینوں کی نیلامی
فروری میں بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں کمی :آر بی آئی










