mufti nasir ul islam

سیفٹی ایکٹ کے تحت گستاخِ رسول ؐکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے

طالب علم کو معطل کرنا کافی نہیں ،امن کے ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں /مفتی ناصر الاسلام

سرینگر//مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصر الاسلام نے ریاستی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ غیر مقامی میڈیکل کے طالب علم کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخانہ تبصرے پر فوری کارروائی کرے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق مفتی ناصر الاسلام نے کہا ہے کہ صرف طالب علم کو معطل کرنا کافی نہیں ہے۔بلکہ مذکورہ طالب علم کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے اس کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے ۔ انہوں نے مجرم کے خلاف کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرینگر کے مختلف اداروں میں کچھ طلبہ کی عادت بن گئی ہے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں توہین آمیز مواد پوسٹ کرتے ہیں، جی ایم سی سرینگر میں ایک طالب علم کا حالیہ جرم اس کی تازہ مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیے جا سکتے ان کا مقصد جموں و کشمیر کے پُرامن ماحول کو خراب کرنا ہے اور امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرنا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ہر مہذب شخص دوسرے مذاہب کی مذہبی تشخص کا احترام کرتا ہے اور ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بھی یکساں مہذب ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ شرپسندوں کو پرامن ماحول کو خراب کرنے کی اجازت نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام اورآپ ؐ کی محبت دنیا کے تمام چیزوں سے زیادہ ہے حتی ٰ کہ اپنے والدین اور اولاد سے بھی بڑھ کر ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ہر کوئی ذاتی نقصان برداشت کرسکتا ہے لیکن رسول اللہ ؐ کی ذات اقدس کے ساتھ کوئی بھی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا ہے بلکہ اس کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔عوام سے افواہوں یا غلط معلومات پھیلانے سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اس ہتک آمیز اور توہین آمیز فعل کی مذمت کی۔