تقریب میں’’ غلام رسول آزاد خصوصی نمبر ‘‘کی رسم اجرائی اَنجام دی گئی
سری نگر//جموں کشمیر گوجری اَدبی سنگت کی طرف سے کلچرل اکیڈمی سری نگر کے سمینار ہال میں آج معروف گوجری اردو اور پہاڑی ادیب اور مایۂ ناز صحافی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات غلام رسول آزادؔ جن کی گزشتہ فروری میں وفات ہو چکی ہے کی یاد میں ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ اِس نشست میں گوجری اَدبی رسالہ رودادِ قوم کے’غلام رسول آزاد خصوصی نمبر‘کی رسم اجرائی بھی ادا کی گئی۔ ایوانِ صدارت میں معروف کشمیری شاعر اور دانشور ظریف احمد ظریفؔ ،سابق ایس پی غلام حیدر بڈھانہ ، سابق سیکرٹری کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر رفیق مسعودی ، چیف ایڈیٹر کلچرل اکیڈمی شعبہ پہاڑی فاروق انور مرزا ، سابق ڈرائریکٹر دوردرشن گلاب الدین طاہر ،معروف گوجری ادیب اور براڈکاسٹر عبدالحمید کسانہ ، فلم پروڈکشن آفیسر اور ڈِسٹرکٹ اِنفارمیشن آفیسر گاندربل آفاق احمد گڈھ ،قاضی محمد شفیع برجمان رہے۔ خطبہ اِستقبالیہ معروف گوجری ادیب اور نائب صدر ادبی سنگت کشمیر رفاقت چودھری نے پیش کیا جبکہ شکریہ کی تحریک معروف ادیب اور سابق کیلی گرافر آفیسر کلچرل اکیڈمی عبدالسلام کوثری نے پیش کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعر محمد شریف قمر ؔنے اَنجام دی۔ تقریب کے آغاز میں عبدالمنان گورسی نے تلاوت کلام اللہ اور دعائے مغفرت کی سعادت حاصل کی۔ روداد قوم ادبی میگزین کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر شبیر احمد پسوال نے مرحوم غلام رسول آزاد کا تعارف پیش کیا۔ جبکہ نوجوان سکالر اور رودادِ قوم کے ایڈیٹر نے خصوصی شمارے کا تعارف اور غلام رسول آزاد کی اَدبی اور صحافتی خدمات پرپیپر پڑھا۔ اس کے بعد ادیبوں ؛ شاعروں اور آزاد کے ساتھیوں نے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کے ساتھ اَپنی رفاقتوں کے تذکروں سے بیشتر غلام رسول آزاد کی پُر اثر زندگی کے مختلف پہلؤوں خاص کر ان کی قابلیت ،بلند اخلاقی،بصیرت مندی ، طرز ظرافت ، اثر و رسوخ وغیرہ کو اُجاگر کیا۔ اِس نشست میں نعیم کرناہی ، نیلوفر ناز نحوی، زاہد پرواز،مشتاق بڈگامی، کاتب محمد رفیع کھاری ، محمد فاروق عاجز، نصرت جبین، اختر رسول بڈھانہ ،ریاض بڈھانہ ،محمد ابراہیم خاکسار وغیرہ نے تقاریر کیں۔ آخیر پر ایوان صدارت میں بیٹھے ادیبوں، شاعروں ،مفکروں اور دانشوروں نے آزادؔ صاحب کو زبردست الفاظ میں خراج، عقیدت پیش کیا اور لواحقین پر ان کی غیر مطبوعہ نگارشات کی اشاعت پر زور دیا۔ اِس کے علاوہ مرحوم غلام رسول آزادؔ کے ہمکاروں اور ساتھیوں نے نم آنکھوں سے یونیورسٹی کے دور سے آخری دم تک کے اُن کی زندگی کے مختلف گوشوں خاص کر علم ، ادب اور صحافت کے تئیں شروعات سے عروج تک کے ان سے وابستہ دلچسپ قصّے سنائے۔ یہ نشست نہایت رقعت آمیز رہی اور مقررین کے ساتھ ساتھ سامعین بھی جذباتی ہو گئے۔ مقررین نے غلام رسول آزادؔ پر ایک خوبصورت اور جامع خصوصی شمارہ شائع کرنے کے لئے اَدبی رسالہ رودادِ قوم کے مدیران کو بھی سراہا اور ان کی خدمات کی تائید کی۔ تقریب میں صف سامعین میں اَدب سے وابستہ لوگوں اور غلام رسول آزادؔ کے چاہنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے بھی حصہ لیا۔










