وادی کے کئی علاقوں میں دھان کی کھیتوں میں پانی کم پڑ جانے سے کسان پریشان
سرینگر // وادی کشمیر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث پانی کی قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں دھان کی پنیری لگانے میں کسانوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کھیتوں میںپانی میسر نہ ہونے کے باعث کسان پریشان حال ہے ۔ سی این آئی کو اس ضمن میں نمائندے پرویز وانی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی قلت کے باعث کھیت سوکھ چکے ہیں ۔ کھیت سوکھ جانے کے نتیجے میںکسانوں کو کافی پریشانیاں لاحق ہو گئی ہے کیونکہ دھان کی پنیری لگانے میں دیر ہو رہی ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ ان کی زمین آبپاشی کیلئے نہروںپر منحصر تھی لیکن اس چشمے کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے ٹیپ کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے پینے کے پانی کی سپلائی اسکیم کیلئے چشمہ لگایا گیا ہے، تقریباً پانچ دیہاتوں کے کسان آبپاشی کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ایک مقامی رہائشی جمشید احمد نے بتایا کہ عموماً وہ علاقے میں دھان کی کاشت20 مئی تک مکمل کر لیتے تھے لیکن اس سال آبپاشی کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک دھان کی پنیری نہیں لگا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے اپنے طور پر موٹریں اور دیگر سہولتیں لگائی ہیں تاکہ دھان کی کاشت کی جا سکے۔ایک اور مقامی شبیر احمد نے کہا کہ تقریباً پانچ دیہات کے کسان آبپاشی کی مناسب سہولتوں کی عدم موجودگی میں مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ حکام نے پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے چشمے کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی سپلائی سکیم کیلئے چشمہ لگانے سے پہلے حکام کو اس زمین کی آبپاشی کی سہولیات کا انتظام کرنا چاہیے تھا جس پر سینکڑوں خاندانوں کا انحصار ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکام کو اس معاملے کو دیکھنے اور آبپاشی کے انتظامات کرنے کیلئے آگاہ کیا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔انہوں نے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دیں۔










