breast cancer

جموں کشمیر میں کینسر کے معاملات میں اضافہ کے پیش نظر

خطے میں 30 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کی کینسر کی اسکریننگ ہوگی

سرینگر//جموں کشمیر میں کینسر کے کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر طبی مراکز میں کھانسی، زکام ، بخار سے متعلق آنے والے مریضوں سے کینسر کی علامات کے بارے میں پوچھا جائے گا اور مشتبہ مریضوں کا کینسر ٹسٹ کروانے کے بعد مناسب علاج فراہم کرنے کا کام کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جموں کشمیر میں صحت اور بہبود کے مراکز میں 30 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی کینسر اسکریننگ کی جائے گی۔ کینسر کے کیسز کا جلد پتہ لگانا مناسب علاج کا باعث بنے گا۔ جموں و کشمیر میں پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے زیادہ کیسز مردوں اور عورتوں میں آرہے ہیں۔ تمباکو نوشی اور تمباکو کا استعمال مردوں میں کینسر کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جبکہ چھاتی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ خواتین کی جانب سے ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ملک بھر میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ایسے کیسز کی بروقت نشاندہی اور مریض کو مناسب علاج فراہم کرنے کے لیے ایک بڑی مہم چلائی جائے گی جس کے تحت جموں و کشمیر میں 30 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی کینسر اسکریننگ کی جائے گی۔ ابتدائی سطح پر اسے گاؤں کی سطح سے ہیلتھ اینڈ ویلنس سنٹر تک شروع کیا جا رہا ہے جس کے بعد اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ کھانسی، زکام، بخار سے متعلق ان مراکز میں آنے والے مریضوں سے کینسر کی علامات کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا اور مشتبہ مریضوں کا کینسر ٹیسٹ کروانے کے بعد مناسب علاج فراہم کرنے کا کام کیا جائے گا۔اس کے لیے ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر میں 1730 صحت اور تندرستی کے مراکز قائم ہیں۔ جہاں پہلے ہی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ لیکن ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمرمیں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر اب کینسر کی علامات کی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ محکمہ صحت کے پاس ہر ضلع کی سطح پر کیموتھراپی فراہم کرنے کا ایک ایکشن پلان بھی ہے۔ادھر ذرائع نے بتایا کہ ہر سال صرف جموں ڈویژن میں تقریباً دو ہزار نئے کینسر کے مریض پائے جاتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے زیادہ کیسز مردوں اور عورتوں میں آرہے ہیں۔ تمباکو نوشی اور تمباکو کا استعمال مردوں میں کینسر کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جبکہ چھاتی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ خواتین کی جانب سے ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنا ہے۔پھیپھڑوں کے بعد مردوں میں سر، گلے اور مسوڑھوں کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے۔ وی او آئی کے مطابق کینسر کے سب سے زیادہ کیسز کی بات کریں تو ضلع جموں سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس کے علاوہ کٹھوعہ، ادھم پور، راجوری، ڈوڈہ، سانبہ، ریاسی وغیرہ اضلاع سے بھی کینسر کے نئے کیس موصول ہو رہے ہیں۔اس ضمن میں ریجنل کینسر ڈپارٹمنٹ، جی ایم سی جموں کا کہنا ہے کہ اسکریننگ کے عمل کے ذریعے کینسر کے مریضوں کا جلد پتہ لگا کر انہیں بروقت مناسب علاج دے کر بہتر زندگی دی جا سکتی ہے۔ریشم گھر میں زیر تعمیر اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ (SCI) بھی مستقبل قریب میں شروع ہونے سے مریضوں کو بڑی راحت ملے گی۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے شروع ہونے سے جموں و کشمیر کے علاوہ ہماچل پردیش، پنجاب کے کینسر کے مریض بھی علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ انسٹی ٹیوٹ کے لیے مختلف کیڈرز کے 196 اسامیاں پہلے ہی ریاستی انتظامیہ نے منظور کی ہیں۔ اس اسپتال میں کینسر کے مریضوں کو جدید ترین آلات کے ساتھ بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جو ریاست میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔