نئی دہلی سے سرینگر ہواء کرایہ میں مسلسل اضافے پر سیاحوں نے حیرانگی کااظہارکیا
سرینگر//ملکی غیر ملکی سیاحوںکاوارد کشمیر ہونے کاسلسلہ جاری ،رواں برس کے پانچ ماہ کے دوران بارہ لاکھ پچاس ہزار ملکی غیرملکی سیاح وارد کشمیر ۔ادھرملکی غیرملکی سیاحوں کے ہوائی کرایہ کے اضافے کوناقابل برداشت اور جموںو کشمیر انتظامیہ کی خاموشی پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ نئی دہلی سے سرینگر تک کاہوئی کرایہ عام انسان کے حداختیار سے باہرہورہاہے ۔جسکی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد شملہ او ردوسرے سیاحتی علاقوں کارُخ کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق ملک کے مختلف ریاستوں میں ریکارڈ توڑ گرمی پھوٹ پڑنے کے ساتھ ہی ملکی غیرملکی سیاحوں کی آمد کاسلسلہ ہنوز جاری ۔اگست کے آخر تک تمام ہاوس بوٹ ہوٹل، ریسٹورینٹ ،ہنٹ بُک کر لیے گئے ہے جب کہ سیر وتفریح کے خواہش مند سیاحوں کواگست کے بعد بکننگ کے بارے میں جانکاری فراہم کی جاتی ہے ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جواعداد شمار ظاہرکئے گئے ہے ان کے مطابق رواں برس کے پانچ ماہ کے دوران بارہ لاکھ پچاس ہزا رکے قریب سیاح وارد کشمیر ہوئیں اور ان سیاحوں میں پندرہ سے سولہ ہز ارکے قریب غیرملکی سیاح سیرو تفریح کے لئے سرینگر وارد ہوئیں۔سیاحوں کی آمد جہاں خوش آئینداقدام ہے اور وادی کے صحت افزاء مقامات پر چہل پہل دیکھنے کومل رہی ہے ۔باوڈ رٹورازم کومسلسل فروغ مل رہاہے تاہم وادی کشمیرکارُخ کرنے والے سیاحوں نے ا س بات پر حیرانگی کااظہار کیاہے کہ جموںو کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ہوائی کمپنیوں کے ساتھ کرایہ میں اضافے کامعاملہ نہیں اٹھایاجارہاہے اور نئی دہلی سے سرینگر تک کے ہوائی کرایہ میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے اور عام سیاح ٹکٹ خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ملکی غیرملکی سیاحوں کایہ بھی کہناہے اگرایک کنبے کے چارافراد وادی کشمیر کی سیرو تفریح کاپروگرام بنائے تو انہیں ساٹھ سے اسی ہزار وپے ہوائی کرایہ پریکہ طرفہ خرچ کرنے پرمجبور ہونا پڑ رہاہے حالانکہ نئی دہلی سے بمئی تک کاجوسفر ہے ا سکا کرایہ زیادہ سے زیادہ چار سے پانچھ ہزا رتک کاہے ،جبکہ دبئی سے نئی دہلی تک کاکرایہ بارہ سے تیرہ ہزا روپے تک کاہے اور نئی دہلی سے سرینگر تک کاکرایہ پندرہ سے بیس ہز اروپے تک مقرر کیاگیاہے ۔سیاحوں نے کہا وہ کنبوں کی حیثیت سے وادی کشمیر کی سیروتفریح اور ہوائی کرایہ ادا کرنے کے پوزیشن میں نہیں ہیں اور جس تیزی کے ساتھ ہوائی کرایہ میں اضافہ کیاجارہاہے وہ ناقابل برداشت ہے اگر چہ ہوائی کرایہ میں اضافے کے اس معاملے کوپہلے بھی جموںو کشمیر انتظامہ او رشہری ہوا بازی کی وزارت کی نوٹس میں لایاگیاتاہم ابھی تک ہوائی کمپنیوں نے کرایہ میں کوئی رعایت نہیں دے دی اور جموںو کشمیر انتظامیہ نے اس معاملے کو التواء میں ڈال دیاہے ۔










