Drinking water shortage in cities and villages, people worried

وادی میں گرمی کی شدت کے پیش نظر پانی کی طلب میں اضافہ

غیر رجسٹرر پانی کنکشنوںکو منقطع کر نے کیلئے عنقریب مہم شروع ہوگی// چیف انجینئر

سرینگر/// محکمہ پی ایچ ای(جل شکتی) کشمیرکے چیف انجینئر، وویک کوہلی نے وادی میں درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر لوگوں کو پینے کا پانی حسب ضرورت استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر رجسٹرر پانی کنکشنوں کو منقطع کرنے کیلئے مہم شروع کی جائے گی۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ہی جنوب و شمال میں پینے کے پانی کی رسائی میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جبکہ لوگ احتجاج کرکے اپنی ناراضگی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ محکمہ پی ایچ ای(جل شکتی) کشمیرکے چیف انجینئر وویک کوہلی نے اس بات سے اعتراف کیا کہ گرمیوں کی وجہ سے پانی کے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے،تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ ضرورت کے مطابق پانی سپلائی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کو باغات،گاڑیاں دھونے اور دیگر ایسے کاموں کیلئے استعمال میں لانے کی کوشق کو بند کیا جانا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے تمام پلانٹوں میں حجم کے مطابق پانی سپلائی کیا جا رہا ہے جبکہ موٹر اور پپم بھی اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وویک کوہلی نے کہا کہ محکمہ ضرورت کے مطابق پانی کی رسائی کر رہا ہے،تاہم لوگوں کو بھی چاہے کہ وہ پانی کا غیر ضروری استعمال نہ کریں۔جل شکتی کشمیرکے چیف انجینئر، وویک کوہلی نے بتایا، رنگوئل جیسے کلیدی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی سطح نمایاں طور پر گر گئی ہے۔ان کا کہنا تھااس کمی کی وجہ سندھ کی توسیعی نہر ہے، جسے محکمہ آبپاشی بھی استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا اضافی مانگ کی وجہ سے نہر میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔کوہلی نے مزید کہا کہ صورتحال پر توجہ دی جا رہی ہے اوریہ جلد ہی حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے بجلی محکمہ کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور انہیںامید ہے بہت جلد پانی کی سپلائی معمول پر آجائے گی۔کوہلی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگوں کے کنکشن رجسٹر نہیں ہے ،انہیں منقطع کرنے کی مہم شروع کی جائے گی،تاکہ انکی وجہ سے رجسٹرر صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پرے۔درجہ حرارت اور گرمی میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر شہر،قصبہ جات اور دیہاتوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کی دستیابی کا سامنا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے زراعت اور بجلی سمیت مختلف شعبو زد میں آرہے ہیں۔ تاہم، سب سے زیادہ واضح اور فوری اثرات پانی کی کمی کی صورت میں سامنے آیا ہیں، جس کے شمالی و جنوبی کشمیر کے علاوہ سطی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی لوگ برسر احتجاج ہے کہ انہیں پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سری نگر اس وقت تقریباً 10 لاکھ گیلن پانی کی روزانہ کی قلت کے ساتھ پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی کی بڑے پیمانے پر کٹوتی ہو رہی ہے۔پانی کی قلت تشویشناک حد تک پہنچ گئی ہے جس سے شہر کے مکینوں میں کافی پریشانی ہے۔ بہت سے علاقے اپنی پانی کی فراہمی میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا ہیں، جس سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے اور اضافی چیلنج پیدا ہو رہے ہیں۔شہریوں نے پانی کی سپلائی کے نظام الاوقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، بعض اوقات ہر چند دنوں میں صرف چند گھنٹوں کے لیے پانی ملتا ہے، جس سے ان کی روزمرہ کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔یہ صورت حال مقامی انتظامیہ اور رہائشیوں دونوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔گرمی کی لہر کے درمیان سرینگر کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔پائین شہر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انکے نلکے خشک ہو رہے ہیں، اور پانی کے دورانیہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے بھی محکمہ پر انہیں معقول مقدار میں پانی فراہم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سرینگر کے بٹہ مالو کے لوگوں کا کا کہنا تھا کہ مسلسل گرمی کی لہر کے درمیان پانی کی ناکافی فراہمی انہیںمشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔ مکینوں نے کہا، ’’ہمیں پانی کی سپلائی کی عدم موجودگی میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب وادی میں شدید گرمی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘‘ شہر کے بٹوارہ،یتو محلہ،ڈار محلہ،اندرانگر اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے بھی مناسب پانی کی عدم رسائی پر تشویش کا اظہار کیا۔اچھ بل اور اس کے ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے بتایا کہ ایک وسیع علاقے کو گزشتہ کئی ماہ سے پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے لیکن محکمہ اس سلسلے میں کوئی مثبت قدم اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔اسی طرح کی صورتحال کولگام میں بھی دیکھنے کو ملی اور وہاں بھی مکینوں نے احتجاج کیا۔شمالی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں بھی گزشتہ 2ہفتوں سے شہریوں نے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاج کیا ہے۔