پانی کی نکاسی کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے سے پانی سڑکوں پر جمع ہوجاتا ہے
سرینگر // جنوبی ضلع پلوامہ کے کچھ علاقوں میں نا قص ڈرینج سسٹم کے باعث سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی کو کافی پریشانیاں لا حق ہو گئی ہے ۔ ایک درجن کے قریب علاقوں میں پانی کی نکاسی کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے سے پانی سڑکوں پر جمع ہوجاتا ہے ۔ سی این آئی کو نمائندے نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پلوامہ کے ایک درجن سے زائد علاقوں میں پانی کی ناقص نکاسی کا نظام مقامی لوگوں کو مشکل وقت دے رہا ہے۔ مقامی آبادی نے بتایا کہ بستی میں نکاسی آب کی مناسب سہولتیں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہاں مقامی آبادی کو پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نکاسی آب کی سہولیات پر ہر سال لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ایک مقامی رہائشی ارشد احمد نے کہا کہ نکاسی آب کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں خاص طور پر بارشوں اور برفباری کے وقت بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اندرونی سڑکیں عام طور پر کیچڑ کے پانی سے ڈوب جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات میں مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ لوگوں کو نماز پڑھنے کیلئے مساجد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک اور مقامی رہائشی شاکر احمد نے بتایا کہ چند سال قبل محکمہ آر ڈی ڈی کی جانب سے ایک نالہ تعمیر کیا گیا تھا لیکن یہ کسی مین ڈرین سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا جہاں سے نالے کا پانی جا سکتا تھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے ان کے بستی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نکاسی کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے سیوریج کا پانی ان کے لان میں داخل ہو جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لان میں داخل ہونے والا کیچڑ والا پانی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے وبائی امراض پھیل سکتے ہیں۔اس حوالے سے بارہا درخواستوں کے باوجود مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ لوگوں کی مشکلات ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔عوام نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمے ان کی شکایات کا نوٹس لے کر ان کی مشکلات کا ازالہ کریں۔انہوں نے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پلوامہ اور بی ڈی او لاسی پورہ ہ سے فوری مداخلت کی بھی درخواست کی ہے۔










