جموں کشمیر کے نصف سے زیادہ اضلاع میں صورتحال اچھی نہیں ہے
سرینگر/// جموں کشمیر میں17اضلاع میں پیدائش کے وقت جنسی تناسب لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں سے کم ہیں، جو کہ ایک تشویش ناک معاملہ ہے تاہم قومی شرح سے بہتر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل از پیدائش تشخیصی تکنیک قانون کو سخت بنانے کی ضرورت ہے۔نیشنل فیملی ہیلتھ سروے پنجم کے مطابق، پیدا ہونے والے بچوں کے لیے پیدائش کے وقت جنسی تناسب1000لڑکوں کے مقابلے میں976لڑکیاں تھاجبکہ اس وقت قومی شرح929تھا۔وائس آف انڈیاکے مطابق جموں کشمیر کے نصف سے زیادہ اضلاع میں تاہم صورتحال اچھی نہیں ہے۔ محکمہ شماریات نے اپنے تازہ رپورٹ میں میڈیکل افسراں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ جموں کے سامبا،ریاسی،کھٹوعہ،جموں راجوری،پونچھ، ادھمپور،ڈوڈہ رام بن کے علاوہ وادی کے ضلع گاندربل،بانڈی پورہ اور سرینگر میں پیدائش کے وقت لڑکوں کے برعکس میں لڑکیوں کا جنسی تناسب قدرے پریشان کن ہے۔سامبا میں سال2023کے 11ماہ کے دوران1797لڑکوں کے مقابلے میں1480لڑکیوں جبکہ ریاسی میں1662لڑکوں کے مقابلے میں1442لڑکیوں اور کھٹوعہ میں2894لڑکوں کے مقابلے میں2618لڑکیوں کی پیدایش ہوئیں۔ان اعداد شمار کے مطابق جموں ضلع میں اس عرصے کے دوران10ہزار289لڑکوں کے برعکس میں9387لڑکوں،راجوری میں4392لڑکوں کے برعکس میں4072لڑکیوں، پونچھ میں3488لڑکوں کے مقابلے میں3262لڑکوں،ڈوڈہ میں2568لڑکوں کے برعکس2406لڑکیوں،رام بن میں1639لڑکوں کے برعکس میں1545لڑکیوں اور ادھمپور میں3218لڑکیوں کے مقابلے میں3059لڑکیوں کی پیدائش ہوئی۔ وادی کے کئی ایک اضلاع میں بھی صورتحال اس سے بہتر نہیں ہے بلکہ ضلع گاندربل میں841لڑکوں کے مقابلے میں775لڑکیاں،بانڈی پورہ میں2021لڑکوں کے مقابلے میں1879لڑکیاں اور سرینگر میں13ہزار993لڑکوں کے مقابلے میں13ہزار 203لڑکوں کے علاوہ ضلع کپوارہ میں3218لڑکوں کے مقابلے میں3059لڑکیاں گزشتہ برس میںنومبر تک پیدا ہوئیں۔ ڈی جی جی آئی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں3اضلاع میں پیدائش کے وقت لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے تناسب غیر معمولی نظر آرہے ہیں۔ان اضلاع میں کشتواڑ میں نومبر2023 کے آخر تک1530لڑکوں کے مقابلے میں1578لڑکیاں،کولگام میں2613لڑکیوں کے مقابلے میں2676لڑکیاں،پلوامہ میں2028لڑکوںکے مقابلے میں2057 لڑکیاں اور بارہمولہ میں6863لڑکوں کے مقابلے میں6855لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جموں کشمیر کے کچھ ایک اضلاع میں صورتحال متواسط نظر آرہی ہے جن میں ضلع اننت ناگ میں سال2023کے دوران5759لڑکوں کے مقابلے میں5752لرکیاں،شوپیاں میں1674لڑکوں کے مقابلے میں1669،ضلع بڈگام میں3980لڑکوں کے مقابلے میں3890لڑکیوں کا تولد ہوا۔ ماہر امراض خواتین ڈاکٹر حنا صوفی کا کہنا ہے کہ قبل از پیدائش تشخیصی تکنیک (جنس کے انتخاب کی ممانعت) ایکٹ، 1994 کو مزید سخت بنانے ضرورت ہے اور اس ایکٹ کا بنیادی مقصد خاص طور پر پیدائش سے پہلے کی تشخیص کے وقت جنس کے تعین کو روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنفی تعصب اور جنس کا تعین صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے جسے کہ قبل از پیدائش تشخیصی تکنیک ایکٹ کے موثر نفاذ کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے جس کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ڈاکٹر بینش نے کہا’’ متعلقین کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے، جبکہ بہتر سمجھ بوجھ کے ساتھ، لوگ پیدائش کے وقت جنس کے تناسب میں مزید بہتری کے لیے پر امید ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ کو ہموار کرنا جنسی تناسب کو بہتر بنانے کا صرف ایک پہلو ہے لیکن خواتین کو بااختیار بنانے اور مختلف پروگرام جیسے کئی دوسرے پہلو ہیں جو جموں و کشمیر میں پیدائش کے وقت جنسی تناسب کو مزید بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔










