2دہایوں میں دستکاروں کی تعداد گھٹ کر50 سے5ہزار پہنچ گئی
سرینگر///دنیا بھر میں ہوٹلوں کے کمروں اور گھروں کو سجانے کے بعد کشمیری فرنیچر کی صنعت کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے،اور یہ اپنی بقاء کیلئے جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ وادی درآمد ہونے والے فرنیچر کا مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔اخروٹ کی لکڑی پر کنددہ کاری کیلئے اگر چہ پائین شہر سے تعلق رکھنے والے غلام نبی ڈار کو’پدم شری‘ کے انعام سے سرفراز کیا گیا ،تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کشمیری فرنیچر صنعت تباہی کے آخری دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیری فرنیچر کی یہ صنعت جسے کبھی کشمیر کے حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی، دنیا بھر میں بدلتے ہوئے منظر نامے کی وجہ سے تباہی کا شکار ہے۔یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس صنعت میں تاریک مستقبل کی وجہ سے صرف چند لوگ ہی اس کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک مقامی فرنیچرکار،غلام نبی بٹ کا کہنا ہے ’’ہمارے بچے اس صنعت کو چلانے میں کم سے کم دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ یہ معدومیت کے دہانے پر ہے۔ ہم اپنے کنبے کا پیٹ بھرنے کے قابل نہیں ہیں اور زیادہ تر لوگ دوسرے کاروبار کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ صنعت کو یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس کے فروغ کے لیے یکسر نظر انداز کیا ہے۔ اوراگر حکومت اس کی ترقی کے لیے اقدامات کرے تو یہ جموں کشمیر میں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کر سکتی ہے۔‘‘جنگلات کی بڑھتی ہوئی کٹائی کے ساتھ، صنعت کو لکڑی کی بھی زبردست کمی کا سامنا ہے، اس طرح وادی کشمیر میں درآمد شدہ فرنیچر کی فروخت کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔محمد شفیع بغدادی نامی کاریگر کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ فرنیچر مقامی فرنیچر کے سخت مقابلہ پرہے۔بغدادی کہتے ہے’’فرنیچر کے لیے زیادہ تر لکڑی اتر پردیش سے درآمد کی جاتی ہے جسے شیشم کی لکڑی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شیشم اپنے کایگروں اور ماہرین کو ساتھ لاتا ہے اور اس طرح کشمیری فرنیچر کی صنعت کو اپنی بقا کے لیے سخت مقابلہ کرنا پر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شیشم فرنیچر کشمیری فرنیچر کے مقابلے میں 50فیصدقیمت میں کم ہوتا ہے جبکہ عام آنکھ پہلی نظر میں شیشم اور اخروٹ کی لکڑی میں فرق نہیں کر سکتی۔ان کا کہنا تھا’’ وادی میںدو دہائیاں قبل50,000 سے زیادہ خاندان اس تجارت سے روزی کماتے تھے لیکن، تنخواہوں میں کمی کی وجہ سے اب اس تجارت سے اپنے کنبے کی کفالت کرنا مشکل ہے۔‘‘ بغدادی نے کہا کہ’’ابھی، اس تجارت میں صرف4ہزار سے5ہزار دستکار ہیں اور ان باقی یا تو فوت ہوگئے ہیں یا کم منافع اور کم مارکیٹ مواقع کی وجہ سے دستکاری کو ترک کر چکے ہیں۔‘‘کشمیر میں شیشم فرنیچر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں پوچھے جانے پر، ایک اور مقامی فرنیچر دکان کے نور محمد ملک نے کہا’’کسی بھی فرنیچر کی لکڑی رنگ، ڈیزائن اور پائیداری کے لحاظ سے کشمیری لکڑی سے مماثلت نہیں رکھتی لیکن کشمیری معاشرے متوسط طبقے کے ہوتے ہیں اور کشمیری فرنیچر کے مقابلے شیشم خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیری فرنیچر کی صنعت مزید پانچ سال تک نہیں ٹک سکے گی۔نور محمدنے مزید کہا’’اس صنعت کو فروغ دینے میں حکومت کی ناکامی رہی ہے جو کشمیر میں نامسائد حالات کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔‘‘ کچھ مقامی کاریگر مفاد خصوصی رکھنے والے ڈیلروں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ سیاحوں کو روایتی کشمیری فرنیچر کے نام پر درآمد شدہ فرنیچر فراہم کرکے دھوکہ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے’’ہمارا کاروبار ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کشمیر میں مقامی ڈیلر سیاحوں کو کچھ درآمدی فرنیچر فراہم کرتے ہیں اور اسے روایتی کشمیری فرنیچر کے نام سے منسلک کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’ ہمارے کاروبار کو ایک بہت بڑے خطرے کا سامنا ہے جس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس کو کوئی بچا نہیں سکتا۔ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کا ماننا ہے سجاوٹی پلاسٹک یا دھاتی فرنیچر متعارف ہونے سے کشمیری فرنیچر کی مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور کشمیر میں اس صنعت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے۔ محمد رفیق نامی مقامی شہری کا کہنا ہے ’’ہم دیودر، کیکر اور اخروٹ کی لکڑی سے بنے روایتی فرنیچر کے مقابلے میں پلاسٹک کا فرنیچر استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس کی قیمت نسبتاً کم ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہے۔‘‘










