dooran

گگن گیر میں ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر ریسٹورنٹ کی الاٹمنٹ

ایس ڈی اے کو لگا لاکھوں روپے کا چونا،کہا ضابطہ اخلاق میںٹھیکہ الاٹ کرنے کا اختیار نہیں

سرینگر// سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گگن گیر کے مقام پر ایک کیفے ٹریا و ریستوراںکی الاٹمنٹ دی ہے،جس سے اس ادارے کو قریب ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔سونمرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے صحت افزا مقام سونہ مرگ سے 11کلو میٹر قبل کے مقام پر واقع امسال29فروری کوکیفے ٹریا و ریستوراں(مغل ریزاٹس)،کار پارکنگ اورکیمپنگ کی جگہ کو ٹھیکے پر دینے کیلئے ٹینڈ طلب کیا۔ٹینڈر کے ساتھ20ہزار روپے کی زر ضمانت رکھنا لازمی قرار دیا گیا تھا ،جبکہ بولی کی شرعات2لاکھ20ہزار روپے مقرر کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بولی پیش کرنے کی آخری تاریخ16مارچ دن کے4بجے مقرر کی گئی تھی۔ 16 مارچ کو آن لائن portal Gem کے ذریعے سے ٹینڈر کی شروعات ہوئی جس کے بعد کئی ٹھیکداروں نے اس میں حصہ لیا۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ٹینڈر میں اس کیفٹریا کی بولی 30لاکھ60ہزار روپے لگ گی۔ ضابطہ کے تحت یہ رقم یکمشت کامیاب بولی دہندہ کو سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس جمع کرنی تھی،تاہم تا ایں دم کامیاب ٹھیکدار نے کوئی بھی رقم جمع نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا کہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے افسراں نے مذکورہ جگہ بغیر رقم جمع کرائے ہی کامیاب ٹھیکدار کو الاٹ کی۔جس پر وہ کاروبار کر رہا ہے،اور سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ضوابط کے مطابق اگر کامیاب ٹھکیدار وقت مقررہ پر رقومات جمع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ایسے ٹھیکدار کو یہ ٹینڈر دینا لازمی ہوتا ہے،جو بولی دہندگان میں دوسرے پائیداں پر رہا ہو۔کئی برس قبل ایک کیفے ٹریاا و رسٹورنٹ تعمیر کیا تاکہ اس سے اتھارٹی کو آمدنی حاصل ہوگی۔معتبر ذرائع کے مطابق اصل میں سال2019میں یہ کیفے ٹریا،کمپنگ سائٹ اور کار پارکنگ ایک سال کیلئے الاٹ کی گئی تاہم کیفے کے مالک نے سال2020میں عدالت کا رجوع کیا اور کہا کہ انہیں کویڈ مدت میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،اس لئے انہیں مزید وقت دیا جائے۔عدالت نے سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کو احکامات دئے تھے کہ وہ عدالت میں کیس درج کرنے والے شخص ظہور احمد ملک کے کاروبار کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور انہیں کچھ مزید وقت دیا جائے۔ چیف ایگزیکٹو افسر سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی 4سال بعد ٹینڈر طلب کیا،جس میں بھی مذکورہ کیفے ٹریا مالک ہی کامیاب قرار پایا۔ اس بولی میں شرکت کرنے والے ٹھیکداروں کا تاہم کہنا ہے کہ اگر گزشتہ5برسوں سے یہ کیفے بغیر ٹینڈر ہی چل رہا تھا اور ’ایس ڈی اے‘ کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا تو موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر کو ٹینڈر طلب کرکے یہ جتناے کی کیا ضرورت ہے کہ اتھارٹی اس معاملے میں فکر مند ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برس میں ایس ڈی اے کو اس کیفے ٹریا سے زائد از ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس بارے میں چیف ایگزیکٹو افسر سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی فاروق احمد بابا نے بتایا انتخابی کوڈ آف کنڈیٹ(انتخابی ضابطہ اخلاق) میں اتھارٹی کسی بھی قسم کا ٹھیکہ الاٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔