وادی کے دور دراز علاقوں میں صرف موبائل ملتا ہے نیٹ ورک نہیں

نیٹ ورک کی عدم دستیابی کی وجہ سے موبائل صرف کھلونے بن کے رہ گئے ہیں

سرینگر//مواصلاتی خدمات آج کے وقت میں انسان کے لئے اہم ہو چکا ہے اپنوں کی خبر خیریت جاننی ہو یا تعلیم حاصل کرنی ہو یا پھر آفس کا کوئی ضروری کام ہو، سب کچھ اسی پر منحصرہو گیا ہے۔اب انسان کی روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر اسی پر منحصر ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر کسی علاقعہ میں موبائل نیٹ ورک نہ ہو تو وہاں لوگ کیسے اپنی زندگی گزارتے ہونگے یہ سوچنا بھی مشکل ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی ملک کے کچھ ایسے علاقع ہیں جہاں نیٹ ورک ایک سنگین مسلہ ہے وائس آف انڈیا کے نمائندے کے مطابق یوٹی کشمیر کا دیہی علاقع ہے جہاں مواصلاتی خدمات کو لیکر کہیں نہ کہیں عوام پریشان نظر آتی ہے۔اس کے بر عکس کشمیر میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز بہتر مواصلاتی خدمات فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے رہتی ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سرحدی علاقہ جات میں کسی حد تک زیادہ بہتر خدمات فراہم کرنے میں کچھ مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں، لیکن پھر بھی انتظامیہ کی کوشش رہتی ہے کہ ہر شہری کو بہترین بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب انتظامیہ کی کاوشوں او ر دعوو?ں کے بعد شہر سے سٹے علاقہ جات میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہوکشمیر میں جیو، ایئر ٹیل، بی ایس این ایل دیگر مواصلاتی کمپنیاں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ سال 2019 اگست کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل خدمات متاثر ہوئی لیکن ایک عرصہ کے بعد بحال کر دی گئیں۔ لیکن آج بھی کچھ ایسیعلاقہ جات موجود ہیں جہاں بیس سال قبل کی طرح لوگ اپنے گھروں سے نکل کر دور دراز کے علاقہ جات میں موبائل سگنل ڈھونڈنے جاتے ہیں کہ اپنو ں سے بات کر لی جائے۔ سال2005میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بی ایس این ایل نے اپنی خدمات فراہم کیں۔اس وقت سگنل اور ٹاوروں کی کمی کے باعث لوگوں کو گھر وں سے نکل کر دور بلند مقامات پر سگنل ڈھونڈنا پڑتا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ حالات تبدیل ہوئے لیکن کئی مقامات ضلع اننت ناگ کے ایسے بھی ہیں جہاں لگ بھگ سترہ برس قبل کی طرح لوگ سگنل ڈھونڈنے جاتے ہیں۔ قبضہ پہلگام سے محض گیارہ کلومیٹر کی مسافت پر گاوں آرو آباد ہے آرو پہلگام قبضہ کے بالکل قریب ہے لیکن آرو اور مڈلن اور قبضہ کوکر ناگ کے ڈکسم، ثہرہ، ترانجی کی عوام آج کے اس ڈیجیٹل دور میں بھی مواصلاتی خدمات کیلئے پریشان ہے۔ یہاں کی عوام نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم موبائل پر سگنل ڈھونڈنے کیلئے گھر سے باہر کسی دوسری جگہ پر جاتے ہیں، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہاں سگنل مل ہی جائے، اگر سگنل مل جائے تو ہی بات ممکن ہو سکتی ہے۔اس سلسلے میں مقامی جاوید احمد ملک جنکی عمر 48 سال ہے،نے بات کرتے ہوئے کہاکہ میں جالندھر میں اپنے کام کے سلسلے میں جاتارہتا ہوں۔سال2016 کا واقعہ ہے کہ میرا ایکسڈنٹ ہوگیا، گھر پررابطہ کرنے کیلئے میں نے بہت کوشش کی، لیکن گائوں میں موبائل کا بہترسگنل نہیں تھا جس کی وجہ سے میرے گھر میں لگ بھگ پندرہ دن کے بعد بات ممکن ہوپائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالا ت میں ہمیں کافی مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ جب ہم اپنی روزی روٹی کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوں اورگھر میں رابطہ نہ ہو سکے۔ جاوید نے کہاکہ یہاں کے علاقہ کے جو لوگ اپنے گھروں سے باہر محنت مزدوری کیلئے جاتے ہیں تو یہاں موبائل خدمات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اہل خانہ سیروابط میں نہیں رہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب ڈیجیٹل دنیاچل رہی ہے،طلباء آن لائین تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو ہمارے علاقے میں آن لائین تعلیم تو دوری کی بات ہے یہاں توبات نہیں ہو سکتی کیونکہ ناقص مواصلاتی خدمات میں یہ ممکن نہیں ہے۔