بجلی ،پانی کی عدم دستیابی اور سڑکوں کی ناگفتہ بہہ حالت پریشان کن ،انتظامیہ سے توجہ دینے کا مطالبہ
سرینگر / /شمالی کشمیر ضلع بارہمولہ کے مختلف علاقوں بشمول رفیع آباد،زینہ گیر ،کنڈی کے بیشتر پہاڑی دیہات سرکاری طور نظر انداز ہیں اور لوگوں کو گوناگوں مشکلات کاسامناکرنا پڑرہا ہے ۔ کشمیرپر یس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ ضلع کے علاقہ جات کے بیشتر رفیع آباد کے دیہات بشمول حمام مرکوٹ ،کتردجی ، ستھرینہ ،دازنہ ،برمن ،کتری ناری بل ، لر آنگن اورزینہ گیر کے یمبر زل واری ،رام پور ،راجپور،،منگلو،یمرن میں بجلی وپانی کی عدم دستیابی اورسڑکوں کی ناپختگی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی قلت سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار دور میں بھی لو گ اپنے بیماروں کو چار پائیوں پر اٹھاکر اسپتال پہنچانا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ میں دیگر اشیائے ضروریہ جیسے پانی اور بجلی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی کلومیٹردور ان کومین سڑک تک پہنچنے کے لئے ہمیشہ پیدل جانا پڑتا ہے ۔جبکہ پانی لانے کیلئے کئی کلومیٹر کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے اور دو کلومیٹر راشن گھاٹ ان کی بستی سے دور ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے اورسردیوں کے ان ایام میں زیادہ سے زیادہ مشکلات سہہ رہے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پسماندہ علاقہ کی طرف توجہ مرکوز کی جائے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔










