pahlgam

پہلگام میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر

رواں برس گزشتہ سال کی کل تعداد کے مقابلے میں زیادہ سیاحوں نے سیر کی

سرینگر //جنوبی ضلع اننت ناگ کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح سیرو تفریح کے لئے وارد پہلگام ہو رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال ریکارڈ تعداد میں سیاح پہلگام کی سیر پر آرہے ہیں۔اعدادوشمارکے مطابق، رواں برس پہلی جنوری سے 20 مئی تک تقریباً 5 لاکھ سے زائد سیاح سیرو تفریح کے لئے پہلگام پہنچے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اور محکمہ ٹورازم کے مطابق، اس سال پہلے ساڑھے چار مہنیوں میں 5 لاکھ سے زائد سیاح پہلگام کی سیر کے لئے آئے۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق “اس سال کافی تعداد میں سیاح پہلگام کی سیر پر آرہے ہیں اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ساڈھے چار مہنیوں میں تقریباً 5 لاکھ سے زائد سیاحوں نے پہلگام کی سیر کی، جن میں غیر ملکی سیاحوں کی خاصی تعداد شامل ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے تقریباً پچاس غیرملکی سیاح روزانہ پہنچ رہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے آنے والے زیادہ ترسیاحوں کی تعداد اسرائیل ، جرمنی ،بنگلہ دیش، سنگاپور اور ملیشیا سے ہے جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں سے آنے والے زیادہ تر سیاحوں کا تعلق ریاست مہاراشٹر، گجرات، چینائی اور بنگال، کرالہ ، دہلی سے ہے”۔ پہلگام ڈولیپمینٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طاریق احمد نائیک کا کہنا ہے کہ اس سال زیادہ ترسیاحوں نے گلمرگ کی سیرکی جبکہ پہلگام، سونہ مرگ اور سری نگر ، ڈکسم، سنتھن ٹاپ، کوکر ناگ کے علاوہ دودھ پتھری میں بھی سیاحوں کی کافی تعداد دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے قیام کے لئے محکمہ سیاحت اور اس صنعت سے منسلک افراد نے بھاری پیمانے پر قبل از وقت تیاریاں مکمل کرلی تھیں، جس کے طفیل سیاح پہلگام میں اپنے قیام کے دوران آرام دہ محسوس کررہے ہیں۔ طاریق احمد نایک نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافے سے ہوٹل صنعت سے وابستہ افراد کافی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا،”ہمارے پاس پہلگام میں روزانہ ،12 ہزار سیاحوں کے لئے قیام کرنے کی سہولت دستیاب ہے اور ان دنوں ہوٹلوں و دیگر قیام گاہوں میں 90 سے 95 فیصد بکنگ ہے۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح پہلگام کا ر خ کریں تاکہ وہ یہاں کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوجائیں اور پہلگام میں قیام کے دوران انہیں کسی طرح کی دشواری کا نہ کرنا پڑے۔