سری نگر//گورنمنٹ میڈیکل کالج ( جی ایم سی )سری نگرکے پوسٹ گریجویٹ شعبہ گائنی کالوجی اینڈ اوبسٹیٹرکس نے ’’سیف مدرہڈ کمیٹی ایف او جی ایس آئی‘‘کے اِشتراک سے آج گورنمنٹ لل دید ہسپتال سری نگر کے آڈیتوریم ہال میں ’’ پوسٹ پارٹم ہیمرج(روکنے کے قابل روکتھام)‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ سی ایم ای کم ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔پرنسپل جی ایم سی پروفیسر ( ڈاکٹر ) عفت حسن شاہ نے کانفرنس کا اِفتتاح کیا جبکہ ڈاکٹر پونم گوئل اور ڈاکٹر دیپا گپتا مہمان ذی وَقار تھیں۔ کانفرنس کا مقصدبیداری بڑھانا، جدید تحقیق کا اِشتراک کرنا اور پی پی ایچ کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔پرنسپل جی ایم سی ڈاکٹر عفت حسن نے منتظمین کو ایسے اہم موضوع پر روشنی ڈالنے پر مبارک باد پیش کی جس سے پی پی ایچ کے اِنتظام اور قدرتی اموات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اُنہوں نے ممبران کو تمام ضروری اِنتظامی بیک اَپ فراہم کرنے کا یقین دِلایا۔ڈاکٹر پونم گوئل نے اس طرح کی ورکشاپ کی اہمیت کا اعادہ کیا اور مختصر مدت میں اِس طرح کی تقریب کے اِنعقاد کے لئے محکمہ کی سراہنا کی۔اِس سے قبل پروفیسر ( ڈاکٹر ) رِضوانہ حبیب ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ او بی جی جی ایم سی سری نگرنے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں کہا کہ پوسٹ پارٹم ہیمرج (پی پی ایچ) نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی زچگی کے دوران اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔تاہم اس کی روکتھام ممکن ہے۔ پی پی ایچ کا اِنتظام کرنے کے لئے ٹیم کے تمام ممبروں کے ساتھ ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ ڈاکٹر ، نرسیں ، پیرامیڈکس ، اینستھیزیولوجسٹ وغیرہ سب اپنے حصے کو جانتے ہوں۔ اس طرح سی ایم ای ، ورکشاپوں اور تازہ ترین پی پی ایچ ڈرلز عملے کی تربیت میں مفید اور ضروری ہے۔اِس موقعہ پر پروفیسر (ڈاکٹر) سیّد معصومہ رضوی اور ڈاکٹر مظفر جان (ایم ایس ایل ڈی ہسپتال) نے بھی اس طرح کی تقریبات کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر شائلہ میر، ڈاکٹر شازیہ اشرف، ڈاکٹر ثمینہ اشرف، ڈاکٹر پونم اور ڈاکٹر دیپا گپتا نے پی پی ایچ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔پروفیسر (ڈاکٹر) عنبرین قریشی نے پی پی ایچ کی بروقت تشخیص اور علاج کے لئے طبی عملے کے تمام ارکان کو تربیت دینے کی اہمیت پر زور دیا کیوں کہ یہ مریضوں کی جان بچانے والا ثابت ہو سکتا ہے۔تربیت حاصل کرنے والوں میں فیکلٹی ممبران، سینئر ریذیڈنٹس، جونیئر ریذیڈنٹس، نرسیں اور ان کا پیرا میڈیکل سٹاف شامل تھا۔مسلسل تحقیق، تعلیم اور تعاون سے میڈیکل کمیونٹی اس اہم زچگی کی پیچیدگی کو روکنے اور اِس کے اِنتظام میں اہم پیش رفت کرنے کے لئے تیار ہے۔










