بچے پنچایت گھر میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور، بارش کے دنوں سکول رہتا ہے بند
سرینگر//گورنمنٹ پرائمری سکول ڈانگر پورہ مالون کولگام میں قائم سکول کی عمارت نہ ہونے کے نتیجے میں بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں ہی پڑھایا جاتا ہے- وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں قائم سرکاری سکولوں کی حالت ابتر ہونے کے نتیجے میں ان سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل مخدوش بن رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ پرائمری سکول ڈانگر پورہ مالون کولگام کی سکولی عمارت نہیں ہے- جس کے بعد سے سکول میں زیر تعلیم بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں ہی پڑھایا جارہا ہے۔ا گرچہ سکول میں تعینات اساتذہ نے سکول کیلئے کرایہ کیلئے جگہ کی تلاش کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام ہوئے۔ اس سلسلے میں اگرچہ متعلقہ حکام سے کئی بار بات کی گئی او ر سکولی عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں محکمہ ایجوکیشن نے ابھی تک کوئی بھی اقدام نہیں ا ٹھایا۔ ڈانگر پورہ مالون میں گورنمنٹ پرائمری سکول میں زیر تعلیم 151بچے پڑاھنے کے لئے صرف 5 ٹیچر اور 3 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں اس صورتحال پر مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے ا جھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کولگام زون میں مالون گاوں میں پرائمری سکول کی عمارت نہیں ہے اور بچوں کو مقامی پنچایت گھر میں پڑھایا جاتا ہے اسی پنچایت گھر کی عمارت کے پانچ کمروں میں سکول کو چلایا جارہا ہے۔ مالون چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ سکول میں 151سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں سکول میں عملہ کی قلت بھی ہے لیکن پنچایت گھر عمارت صرف پانچ کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے دو دفتری کام کاج کیلئے ہے جبکہ دیگر تین کمروں میں 6 کلاسوں کو پڑھایا جارہا ہے۔ تین کمروں میں 151بچے جب ایک ساتھ جمع کردئے جائیں گے تو کلاس روم میں پڑھنے اور پڑھانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ سکول میں تعینات اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول میں بچوں کو پڑھانے کا کام بہت مشکل بن جاتا ہے کیوں کہ ایک ہی کمرے میں دو تین کلاسوں کے بچوں کو رکھ کر بچوں کو پڑھانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم بہتر ہوتا ہے تو ہم بچوں کو سکول صحن میں پڑھاتے ہیں جو کلاسوں کے بنسبت بہتر ہوتا ہے لیکن جب موسم خراب ہوتا ہے تو ہمارے سکول کے کلاسوں میں اس قدر شور و غل پیدا ہوتا ہے کہ ہم مجبور ہوکر کچھ کلاسوں کو چھٹی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکول کیلئے دوسری عمارت کے حوالے سے کئی بار تحریری طور پر زیڈ ای او سے مطالبہ کیا گیا تاہم محکمہ کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے نمائندے امان ملک بتایا کہ سرکار اور محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے سکول کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ا نہوںنے کہا کہ اس سکول کو سرکار اور محکمہ نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں آبادی مزدو طبقہ سے وابستہ ہے جو بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل نہیں کرسکتے لیکن سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات دستیاب نہ ہونے سے ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کیلئے کوئی سہولیات دستیاب نہیں ہے اس کے باوجود بھی غریب بچے سکول جانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری آئے روز دعویٰ کرتی ہے کہ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنائی جارہی ہے لیکن زمینی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ کہیں سکولی عمارت نہیں تو کہیں پر پڑھانے کیلئے عملہ دستیاب نہیں ہے۔










