جی پی فنڈ بلز سرکاری ٹریجری میں دھول چاٹ رہی ہیں ،گورنر انتظامیہ سے دادرسی کی فریاد
سرینگر//سبکدوش ہیڈماسٹرس ،زیڈ ای اوز ورکنگ ایجوکیشن آفیسرز، دیگر اساتذہ کرام اور نئے سرے سے 12جولا ئی 2023 کے مستقل شدہ ایجوکیشن آفیسرز کی واجب الادا رقومات بصورت گریجوٹی، لیو سیلری ، ایررز وغیرہ کی واگزاری کے لیے بلز اور جی پی فنڈ بلز وغیرہ وغیرہ سرکاری ٹریجڈیوں میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ یہ ہمارے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس کے وجوہات کیا ہیں آخر ٹال مٹول جو کہ یہاں کے ناکارہ سسٹم کی رواج رہی ہے اسکی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور وہ حدیں بھی کب کی پار ہو چکی ہیں۔ ہمارے گھر یلو ضروریات پورا کرنے کی محتاجی عروج کو پہنچ چکی ہے لیکن افسران بالا و افسران زمینی سطح صرف اور صرف ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ یہ اپنے اپنے اندر جھانک لیں اور اپنے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ یہ صاحب منصبی کس کام کے لئے مامور کئے گئے ہیں کامیابیوں اور ناکامیوں کا موازنہ کریں۔ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اگر ہمارا مطالبہ نامعقول ہے تو برملا کہہ دو ورنہ چکر کس چیز کی ہے۔ ہماری با ادب طریقے سے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا ودیگر ذمہ داران گورنر انتظامیہ اور محکمہ خزانہ و محکمہ تعلیم کے عزت دار آفیسران سے عاجزانہ طور درخواست رہے گی کہ آخر ہماری دادرسی کی فریاد سن لی جائے اور ہمارے جائز رقومات بصورت جی پی فنڈ وغیرہ وغیرہ واگزار کرانے کے لئے کار گر اقدامات اٹھا ئے جائیں۔ محکمہ تعلیم کے ایڈمنسٹریٹو سکریٹری اور دونوں ذی وقار ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن صاحبان سے سے مودبانہ درخواست رہے گی کہ وہ ہمارے اعلی پایہ سرکاری نمایندہ حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے کاز کی بھر پور وکالت کرنے کے مجاز ہیں اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے ہمارے جائز مطالبات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ کمال مہربانی ہوگی۔










