dates in kashmir

وادی کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران کھجوروں کی خریداری میں ایک بار پھر بڑھ گئی

بازاروں میں رونق لوٹ آئی، میوہ جات اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے کاروبار میں اضافہ

سرینگر//وادی کشمیر میں رمضان مبارک کے دوران ایک بار پھر مختلف قسموں کے کھجوروں کی خرید و فروخت میں اضافہ درج ہونے لگا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی میں یوں تو سال بھر مختلف قسموں کے کھجور دکانوں پر دستیاب رہتے ہیں اور لوگ ان کو خرید بھی لیتے ہیں لیکن ماہ صیام کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی وادی کے بازاروں میں مختلف قسموں کے کھجوروں سے سجائے ہوئے ریڑھیاں بھی نمودار ہونے لگتی ہیں جہاں افطار سے قبل لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کھجور کے تجارت سے وابستہ ظہور احمد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ امسال کھجور کی مانگ میں ٹھیک اضافہ درج ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امسال اچھی مقدار میں مختلف قسموں کے کھجور فروخت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ’ہم روزانہ پانچ سو سے چھ سو تک کھجور کے پانچ کلو والے ڈبے فروخت کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ہم سال بھر یہ تجارت کرتے ہیں لیکن ماہ رمضان کے دوران اس کی مانگ زیادہ رہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مختلف قسموں کے کھجور فروخت کرتے ہیں جن میں قلمی کھجور، مبروم، اجوا وغیرہ شامل ہیں۔مسٹر ملک نے کہا کہ یہاں لوگ زیادہ تر قلمی کھجور کھاتے ہیں جس کے پانچ کلو والے ڈبے کی قیمت دو ہزارروپے ہے۔انہوں نے کہا کہا کہ اجوا کھجور کم لوگ ہی کھاتے ہیں کیونکہ وہ مہنگا ہے۔وادی میں بھی کھجور سے افطار کرنے کی روایت برابر جاری ہے اور یہاں بھی ماہ مبارک رمضان کے دوران کھجوروں کی خریداری معمول کی شاپنگ کا اہم جز ہوتا ہے۔وادی کے بازاروں میں سعودی عرب اور ایران کے کھجور دستیاب رہتے ہیں۔طاریق احمد نامی ایک شہری نے نمایندے کو بتایا کہ میں روزانہ کم سے کم ایک سو روپے کے کھجور خرید کر گھر لے جاتا ہوں اور میرے تمام افراد خانہ ہر روز کھجور سے ہی روزہ توڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھجور سے روزہ توڑنے کافی اجر و ثواب ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں ہر کوئی روزہ دار کھجور سے ہی افطار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔محمد عرفان نامی ایک چھاپڑی فروش جس کی ریڑھی مختلف قسموں کے کھجوروں سے لدی ہوئی ہے، نے کہا کہ اس سال ہمارا کام ٹھیک ٹھاک ہے لوگ کھجور خریدیتے ہیں تاہم امسال مہنگے کھجوروں کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔