سانبہ//پرنسپل سیکرٹری ثقافت سریش کمار گپتا نے ضلع پُرمنڈل کے سپورٹس سٹیڈیم میں ایک اہم عوامی دربار کی قیادت کی جس کا مقصد کمیونٹی کی شکایات کو دور کرنا اور ضلع کے ترقیاتی منظرنامے کا جائزہ لینا تھا۔اِس تقریب میں ضلع ترقیاتی کونسل کے نمائندوں، مقامی باشندوں، سماجی کارکنوں، سابق پنچایتی راج اِداروں (پی آر آئیز) اور بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) کے ممبران سمیت مختلف وفود نے فعال شرکت کی۔مقامی لوگوں کی جانب سے اُٹھائے گئے اہم مسائل میں پُرمنڈل اور پڈل علاقوں میں سڑک رابطے سے متعلق مسائل، پی ایچ سی پُرمنڈل میں صحت سہولیات کو اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت، بس خدمات کی دستیابی میں اِضافہ، سبزی منڈیوں کا قیام، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے بندروں کے خطرے کو کم کرنا ، غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کو دُور کرنے ، بے قاعدہ بجلی کی فراہمی، دیو ن اور پُرمنڈل علاقوں میں پانی کی قلت شامل ہیں۔ مختلف وفود، سماجی کارکنوں وغیرہ نے پرنسپل سیکرٹری کو اَپنے مطالبات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک یاد داشت پیش بھی پیش کی۔پرنسپل سیکرٹری نے اِجتماع سے اپنے خطاب میںپُرمنڈل کی گہری مذہبی اور ثقافتی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کی بحالی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے جو ہمارے ورثے کے جوہر کو محفوظ رکھنے کے گہرے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی کی کوششیں محض عمارتوں سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اِس خطے کی روح کو سمیٹتے ہیں جو اس کی شناخت اور قابل قدر روایات کی روشنی کے طور پر کام کرتے ہیں۔سریش کمار گپتا نے سیکٹورل اَفسران پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں کمیونٹی فیڈ بیک کی منصوبہ بندی اور شامل کرنے سے پہلے مکمل زمینی جائزہ لیں۔ اُنہوں نے ’’بیک ٹو وِلیج‘‘اور عوامی درباروں کو لوگوں کی حقیقی ضروریات کو سمجھنے کے لئے ضروری آلات کے طور پر اُجاگر کیا۔ مزید برآں، بندروں کے خطرے پر قابو پانے کے لئے مؤثر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مقامی کمیونٹی کو تجویز دی گئی۔اِس تقریب میں ضلع ترقیاتی کمشنر ابھیشیک شرما، اے ڈی ڈی سی سامبا راجندر سنگھ، پی او آئی سی ڈی ایس ڈاکٹر سبھاش، ڈی ڈی سی پُرمنڈل اوتار سنگھ اور ضلع اِنتظامیہ کے دیگر سینئر اَفسران کی موجودگی نے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کے عزم کا اِظہار کیا۔










