کئی ترقیاتی منصوبے کے ساتھ ساتھ دنیا کے سب سے اونچے ریاسی میںریل پُل کا بھی افتتاح کریں گے
سرینگر///وزیر اعظم نریندر مودی رواں ماہ کی 20تاریخ کوممکنہ طور پر جموں کشمیر کا دورہ کریں گے جس دوران وہ کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کابھی افتتاح کرنے والے ہیں ۔دریں اثناء موجودہ حکومت کے آخری روزگار میلے میں مودی کل مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نوجوانوں میں 1.08 لاکھ تقرری خط تقسیم کریں گے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ممکنہ طور پر 20 فروری کو جموں و کشمیر کا دورہ کر کے ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ جموں میں ایک ریلی سے بھی خطاب کرنے والے ہیں۔۔وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی سے روزگار میلے کو منظم کریں گے جبکہ تین مرکزی وزیر جموں، سری نگر اور لیہہ میں نوجوانوں میں خطوط تقسیم کریں گے۔امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت اشونی کمار چوبے جموں میں بی ایس ایف ہیڈ کوارٹر پالورا میں ملازمتوں کی تقسیم کے میلے میں شریک ہوں گے جبکہ آیوش، خواتین اور بچوں کی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت مہیندر منجپارہ۔ سرینگر میں روزگار میلہ میں شرکت کریں گے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت اور فارم ویلفیئر کیلاش چودھری لیہہ میں اسی طرح کی تقریب میں شامل ہوں گے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کے 20 فروری کو جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔ وہ جموں کے ساتھ ساتھ سری نگر کا بھی دورہ کریں گے لیکن دورے کے شیڈول کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اگلے دو دنوں میں اس کا اجراء کر دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ امکان ہے کہ وزیر اعظم جموں میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے۔وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے جن میں سانبہ کے وجے پور میں ریلوے کا سب سے اونچا پل ہے، جو کشمیر کو اس سال ریل کے ذریعے ملک کے باقی حصوں سے جوڑ دے گا۔افتتاح کے لیے کئی دیگر پروجیکٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ مودی جموں و کشمیر میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ایک ہی جگہ سے ہونے کی توقع ہے۔یوں تو وادی تک ٹرین کو مزید چند ماہ لگیں گے لیکن بانہال سے آگے یعنی کھاری تک ٹرین چلانے کی تجویز ہے جہاں تقریباً 40 کلو میٹر کا ٹریک تقریباً تیار ہے اور حفاظتی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔میلہ ملک میں روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دینے کے وزیر اعظم کے عزم کی تکمیل کی طرف ایک قدم ہے۔ روزگار میلہ سے توقع ہے کہ روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی میں براہ راست شرکت کے لیے فائدہ مند مواقع فراہم کیے جائیں گے۔‘‘ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا۔نئے شامل کیے گئے تقرریوں کو آئی جی او ٹی کرمایوگی پورٹل پر ایک آن لائن ماڈیول، کرمایوگی پرامبھ کے ذریعے خود کو تربیت دینے کا موقع بھی مل رہا ہے جہاں 880 سے زیادہ ای لرننگ کورسز ’کہیں بھی کسی بھی ڈیوائس‘ لرننگ فارمیٹ کے لیے دستیاب کرائے گئے ہیں۔یہ موجودہ حکومت کا آخری روزگار میلہ ہوگا کیونکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کا امکان ہے جس کے بعد پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔










