کسانوں کا 13فروری کو ‘’’دہلی چلو مارچ‘‘ ہریانہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات

مارچ سے قبل 7 اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات معطل ، پیرا ملٹری فورسز کی اضافی کمپنیاں بھی تعینات

سرینگر // کسانوں کے 13 فروری کے مجوزہ ’’دہلی چلو‘‘مارچ سے قبل ہریانہ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہیں سات اضلاع میں انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کسانوں کے 13 فروری کے مجوزہ ’دہلی چلو‘مارچ سے قبل ہریانہ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہریانہ پنجاب کی شمبھو سرحد کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلی بار پولیس کی جانب سے کی گئی بیریکیڈنگ کو کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں سے دریا میں پھینک دیا تھا۔ اس لیے اس بار ہائی وے پر سیمنٹ کی بڑی رکاوٹیں نصب کی گئی ہیں اور پوری شاہراہ پر سیمنٹ کی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر ہریانہ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سینٹرل پیرا ملٹری فورس کی 50 کمپنیوں کو تعینات کیا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کسی کو امن اور ہم آہنگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بغیر اجازت اس مظاہرے میں شریک نہ ہوں۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف سخت کارروائی کا بھی انتباہ دیا ہے۔ 13 فروری کو پنجاب اور ہریانہ سے بڑی تعداد میں کسان دہلی پہنچنے والے ہیں، وہاں ان کی طرف سے ایم ایس پی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جائے گا۔ اب سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے ہریانہ کے 7 اضلاع میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے۔ہریانہ کے امبالا، کروکشیتر، کیتھل، جند، سرسا، حصار اور فتح آباد میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ فی الحال یہ پابندی 11 فروری سے 13 فروری تک لگائی گئی ہے، بعد میں ضرورت کے مطابق اس میں توسیع پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اطلاع مل رہی ہے کہ کسان ہریانہ پنجاب شمبھو سرحد کے راستے دہلی پہنچنے والے ہیں۔ اس وجہ سے پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھاری فورس تعینات ہے۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی نوئیڈا میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد نے صحیح معاوضے کے لیے احتجاج کیا تھا۔ اس کی وجہ سے دہلی سے نوئیڈا جانے والے لوگوں کو بڑے ٹریفک جام میں پھنسنا پڑا، گاڑیاں گھنٹوں سڑکوں پر رینگتی رہیں اور پولیس کو صورتحال پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے۔