سابق امیر جماعت اسلامی شیخ غلام حسن تاریگامی کی رہائشی گاہ اوردیگر جگہوں پر تلاشی
سرینگر//وادی کشمیر اور جموں میں این آئی اے کی جانب سے سنیچر وار کو چھاپے ڈالے گئے ، ممنوعہ جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن کی رہائش گاہ سمیت دیگر جگہوں پر کارروائی انجام دی گئی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی میں ٹررفنڈنگ کے معاملے میں این آئی کی جانب سے وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی سنیچر وار کو چھاپے ڈالے ۔ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے قومی تحقیقاتی ایجنسی نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ایک غیر قانونی تنظیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی طرف سے دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں ہفتہ کو کشمیر کے کچھ حصوں میں تلاشی لی۔یہ چھاپے جنوبی کشمیر ، سرینگر میں بھی کارروائی جاری رہی ذرائع نے بتایا کہ چھاپے جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے ساتھ قریبی تال میل میں ڈالے گئے ۔ این آئی اے نے کاالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن ولد سیف الدین شیخ ساکن تاریگام کولگام کے گھر پر ڈالا جبکہ سایر احمد ریشی ولد محمد رمضان ریشی ساکن کہروٹ کولگام کے گھروں پر چھاپے ڈالے گئے جن کا تعلق ممنوجہ جماعت اسلامی کے ساتھ تھا ۔ اس کے علاوہ این آئی اے کی جانب سے جموں کے گجر نگر اسلامیہ ماڈل پبلک سکول پرمیں بھی کاررائی انجام دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق اس کیساتھ ساتھ سرینگر میں چلائے جارہے یتیم خانہ راحت منزل پر بھی چھاپہ ڈالا گیا ۔ یہ کارروائیاں این آئی اے کی جانب سے جماعت اسلامی 28فروری سال 2029یو اے پی اے ایکٹ کے تحت انجام دی گئیں جس کا مقصد وادی کشمیر میں ملٹنسی کو بڑھاوادینے کی کوششوں کو روکنا اور مالی معاونت کے رجحان کو ختم کرنا ہے ۔










