خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوا ، شہری اور فورسز ہلاکتوں کا گراف بھی نیچے آیا ۔ مرکزی وزیر نتیانند رائے
سرینگر///راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر کے بارے میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے، ریاستی وزیر نتیا نند رائے نے کہا کہ “ریاست میں سیکورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموں کشمیر میں تشدد کے واقعات میں 60فیصدی کمی ہوئی ۔ انہوںنے بتایا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں سال 2023میں صرف 14عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آئے جبکہ یہ گراف سال 2019میں46تھا۔ جبکہ لداخ خطے میں سال2019کے بعد سے اب تک ایک بھی ملٹنسی سے متعلق واقعہ پیش نہیں آیا ۔وائس آف انڈیا کے مطابق راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں تشدد آمیزواقعات میں کافی کمی ہوئی ہے جبکہ وہاں پر اب حالات دیگر ریاستوں اور شہروں کی طرح ہی نارمل ہے۔ انہوںنے بتایا کہ جموں کشمیر میں ملٹنسی کے واقعات کم ہوکر سال 2023میں 46تک پہنچے ہے اور جو کہ چالیس فیصدی سے بھی کم ہے ۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے جموں کشمیر کے حالات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر نے اپنے جواب میںکہا کہ دہشت گردی سے شروع ہونے والے واقعات 2019 میں 156 سے کم ہو کر 2023 میں 46 رہ گئے ہیں۔ 2019 میں دہشت گردی کے واقعات اور مقابلوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 44 تھی، اور 2023 میں 14 افرادمارے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں سال 2019میں 153تشدد آمیز واقعات پیش آئے ۔ سال 2020میں یہ 126تھی اور سال 2021میں 129واقعات پیش آئے اسی طرح 22میں 125واقعات اورسال 2023میں یہ گھٹ کر 46پہنچی ہے جبکہ اس اثناء میں فورسز ہلاکتوں کی سال 2023میں 32ہوئی اور اس اثناء میں 187ملیٹنٹ ہلاک ہوئے ہیں۔










