ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان نے حرمین میں ’ بلاک دیوس ‘ کی صدارت کی

کہا، ہفتہ وار عوامی رسائی پروگرام میںعوامی مسائل سننا اَچھی حکمرانی کیلئے اہم ہے

شوپیان//ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں فضل الحسیب نے حکومت کے عوامی رابطہ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر آج بلاک حرمین شوپیاں میں مقامی مسائل کا جائزہ لینے اور لوگوں کی شکایات سننے کے لئے ایک ’بلاک دیوس پروگرام ‘کی صدارت کی جس کا مقصد لوگوں کے فوری مسائل کے ازالے کے لئے شکایات اور مطالبات کوسننا تھا۔اُنہوں نے عوام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلاک دیواس کا اِنعقاد جموںوکشمیر یوٹی کے طول و عرض میں کیا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد لوگوں کو زیادہ شفاف، جوابدہ، عوام دوست اور بہتر انتظامیہ فراہم کرنا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ اقدام بہتر حکمرانی میں زبردست مدد مل رہی ہے ۔اِس موقعہ پرمتعدد عوامی مسائل جن میں پسماندہ علاقوں میں سڑکوں کا رابطہ، ریشی پورہ اور عالم گنج کے لوگوں کو پینے کے پانی کی بہتر فراہمی، پی ایچ سی، حرمین کی اَپ گریڈیشن،خراب بجلی کے کھمبوں کی تبدیلی، آبپاشی کھلوں بالخصوص ٹونگری نالہ کی صفائی، سیگریگیشن شیڈ ، صحت بنیادی ڈھانچے میں اِضافہ ، ناگیشرن روڈکی مرمت، حرمین کے لئے ہائی ماس لائٹس ، عالم گنج کھیل میدان میں ایل ٹی الائن کی منتقلی وغیرہ شامل ہیں، پیش کئے گئے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے لوگوں اور وفود کی طرف سے اُٹھائے گئے مطالبات کو بغور سُنا۔ کچھ مسائل کا موقعہ پر ہی ازالہ کیا گیا جبکہ دیگر کو متعلقہ محکموں کو بھیج دیا گیا اور انہیں فوری طور پر حل کرنے اور تمام مسائل کے حل کی کارروائی کی رِپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایات دی گئیں۔اُنہوںنے آبپاشی کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ٹونگری نالہ اور دیگرکوہلوں کی صفائی کے لئے جلد از جلد اپنے اِفرادی قوت اور مشینری کو تیار کریں تاکہ عام لوگوں کی سہولیت ہو۔بعد میں انہوں نے عالم گنج پل کا معائینہ کیا اور متعلقہ عمل آوری ایجنسیوںکوپُل کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔اِس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر نے اے ڈی سی ، اے سی آر ایگزیکٹیو اِنجینئرآراینڈ بی ، تحصیل دار ، بی ایم او ، ای اوکے ہمراہ آثار شریف پنچوڑہ شوپیاں کا دورہ کیا اور شب معراج کی تقریب سعید کے سلسلے میں کئے گئے اِنتظامات کا جائزہ لیا۔ بلاک دیوس پروگرام میں ایس ڈی ایم زین پورہ مشتاق احمد، اے سی پی منظور احمد، تحصیلدار حرمین، اے آر ٹی او، بی ڈی او حرمین، ضلع اور سیکٹورل اَفسران کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔