انسانی جانوں کیلئے خطرہ ،سردیوں کے ان کٹھن ایام میں احتیاط برتنے کی تاکید / ماہرین
سرینگر // گذشتہ برسو ں کے دوران ایسے واقعات پیش آئے جس سے یہ سردیوں سے بچنے کیلئے الیکٹرانک آلات جان لیوا ثابت ہوئے ۔کشمیرپریس سروس کے تفصیلات کے مطابق سردیوں سے بچنے کیلئے لوگ حسب عادت بخاریوں اور الیکٹرانک آلات کا استعمال کرکے گرمی کا انتظام کرتے ہیں اور ان چیزوں کا استعمال یہاں کا موسم تقاضا کررہا ہے لیکن گرمی کے حصول کیلئے ان آلات کا استعمال کرنے میںوینٹی لیشن لازمی ہے۔ ورنہ یہ گرمی کے آلات وانتظامات لوگوں کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں کیونکہ آج تک ایسے دلدوز حادثات پیش آئے جس میں دیکھا گیا کہ ان گرمی کے آلات سے ان کنبوں میں اہل خانہ رات کو آرام سے سو گئے لیکن صبح وہ زندہ نہیں اٹھے اور گذشتہ برسوں میں ایسے واقعات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری رہا ہے ۔اس سلسلے میں ماہرین طب اورماہرین موسمیات نے کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ لوگ سردیوں کے موسم میں گرمی کا انتظام کرنے کیلئے الیکٹر آلات بشمول ہیٹر ا،الیکٹرک حمام ،ایندھن سے گرم ہونے والا حمام اور ایندھن یا گیس بخاریوں کا استعمال کرنے کے دوران رہائشی مکانات کی کھڑکیوں اور دروازوں کو مکمل طور بند رکھتے ہیں اور کسی بھی طرح ہوا داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے جس کے نتیجے میں بند کمرے میں سونے والے دم بہ خود ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات کنبوںمیں موجود اہل خانہ مردے پائے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوا کی آمد ورفت کیلئے روشن دانوں یا کھڑکیوں اور دروازہ کو کھلا رکھیں تاکہ ان کے اندر آکسیجن داخل ہوسکے ۔ان کے بقول بند کمرے میں گرمی کے ان آلات کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہوجاتا ہے اور اگراس دوران گیس باہر جانے کی کوئی گنجائش نہیں رہے تو اس صورت میں یہ گیس جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔لہٰذا لوگ احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھیں تاکہ لوگوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔










