کاشتکاروں کیلئے ویلیو ایڈیشن ، مارکیٹنگ اور ہینڈ ہولڈنگ کی خدمات
سرینگر// وادی کشمیر میں پائے جانے والے آبی اشیاء کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اُٹھارہی ہے خاص کر جھیلوں میں پانے جانے والے ’’ندرو‘‘ کی کاشت کو بڑھانے ، اس کی مارکیٹنگ اور کاشتکاروں کو بہتر منافع فراہم کرنے کیلئے متعدد منصوبوں پر عمل کیا جارہا ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق حکومت جموںوکشمیر جھیل ڈل کے ندرو کو دوام بخشنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے ۔حکومت جموںوکشمیر کی جانب سے لوٹس سٹیم ( ندرو) سے وابستہ دُنیا کی مشہور ’’ جھیل ڈل ‘‘ میں رہنے والے کسانوں کو بین الاقوامی منڈ ی میں اَپنی پیداوار کی فروخت میں اِضافے اور ہینڈ ہولڈنگ خدمات میں توسیع سے ایک نئی زندگی ملی ہے۔نئی تشکیل شدہ اور ترقی یافتہ فارمر پروڈیو سر آرگنائزیشن ( ایف پی او ) میں ڈل اَنٹریئرز کے 250 کسان شامل ہیں ، نے حال ہی میں متحدہ عرب اَمارارت کو دوکنسائن منٹس بر آمد کئے ہیں جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی موجودگی کا احساس ہوا ہے۔اِس فارمر پروڈیو سر آرگنائزیشن ( ایف پی او ) کی تشکیل کا اقدام کسانوں کو اَپنی پیداوار کو ممکنہ قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت کرنے اور فروغ دینے کی خاطر بااِختیار بنانے کے لئے حکومت کے عزم کے مطابق ہے۔کشمیر کنول کا تنا جسے ندرو کے نام سے جاناجاتا ہے جو کنول کے پھول کی جڑوں سے تیار کیا جاتا ہے ۔ہر کشمیری گھر کے دسترخوان پر پایا جاتا ہے ۔ کنول کے تنے کی کاشت وادی کشمیر کی مختلف جھیلو ں میں کی جاتی ہے جن میں سری نگر کی جھیل ڈل سرفہرست ہے۔جھیل ڈل علاقے کے کسان اکثر شکایت کرتے تھے کہ ان کی فصل کے لئے جو قیمت ملتی ہے وہ ان کی پیداوار اور کسانوں کی معمولی اِنفرادی پیداوار کے لئے منڈی میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کافی نہیں ہے ۔ضلع اِنتظامیہ سری نگر نے ندرو(ُ لوٹس سٹیم ) کی اِنفرادیت کو نزاکت کے طور پر دیکھتے ہوئے کاروباری کسانوں سے ملاقات کی اورایف پی او کو منظوری دی ۔ایف پی او کو کمپنیز ایکٹ کے تحت ’’ ڈل لیک لوٹس سٹیم فارمرز پروڈیو سر کمپنی لمٹیڈ‘‘ کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے اور مختصر وقت کے اَندر ایف پی او نے حضرت بل کے جھیل ڈل علاقے میں کل 250 شراکت دار وں کو متحرک کیا ہے ۔ ایف پی او نے ایک کمپنی کی ملکیت میں ندرو کے رجسٹرڈ برانڈ کو بھی رجسٹر کیا ہے جس میں حفظان صحت سے خریدے گئے اور درجے کے ندرو ( لوٹس ٹیم ) کی مارکیٹنگ شامل ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ محکمہ زراعت کشمیر کے تعاون سے ایف پی او حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو ندرو کی دو کھیپ برآمد کرنے میں کامیاب ہوا ہے جس سے پروڈیو سروں کو بہت زیادہ قیمت مل رہی ہے۔سرکاری ترجمان نے مزید کہا کہ ایف پی او سکیم پیداواری لاگت کو کم کرنے ، فی یونٹ پیداوار میں اِضافہ اور بہتر مارکیٹ لنکج کی سہولیت فراہم کرکا اِدارہ جاتی طریقہ کار ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ کیا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ اںے والے دِنوں میں’’ ڈل لیک لوٹس سٹیم فارمرز پروڈیو سر کمپنی لمٹیڈ‘‘ جیسے ایف پی اوز کو ضلع میں فروغ دیا جائے گا تاکہ زراعت اور باغبانی پیداوار کی مارکیٹنگ میں بہتر ی آئے گی ۔










