رِیاسی//بلاک ریاسی کی پنچایت ماری اے میں منعقدہ ایک اہم تقریب میں بھارت سنکلپ یاترا کے تحت ایک پروگرام کا آغاز کیا گیا جس میں عوام کی سماجی و اِقتصادی ترقی کے لئے عملائی گئی مختلف سرکاری سکیموں کی کامیابی کا جشن منانے کے لئے کمیونٹی ، سرکاری ملازمین اور اِستفادہ کنندگان کو اکٹھا کیا گیا۔اِس تقریب کا اہتمام مرکزی وزارتِ قبائلی امور کی ڈائرکٹر سنگیتا گپتا اور بھارت وِکست یاترا کے تحت ضلع ریاسی کے لئے نامزد پرابھاری آفیسر کی صدارت میں کیا گیا تھا۔اِس موقعہ پر وزیٹنگ آفیسر سنگیتا گپتا نے پنچایتی راج اِنسٹی ٹیوشن (پی آر آئی) کے ممبران اور سرکاری اَفسران سے بات چیت کی۔ اس بات چیت کا مقصد حکومتی سکیموں اور اَقدامات کے زمینی اثرات کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ کو فروغ دینا تھا۔اس کے علاوہ اُنہوں نے ان لوگوں تک پہنچنے پر زور دیا جو انہیں فلاحی سکیموں کے تحت شامل کرنے کے لئے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اُنہوں نے افسران سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت بالخصوص نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنائیںجس کا مقصد حکومت کی سکیموں اور کامیابیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر ویش پال مہاجن نے فلیگ شپ سکیموں کی اہمیت پر زور دیا اور زمین پر ان کے زیادہ سے زیادہ اثرات مرتب کرنے کے لیے مؤثر پروجیکشن کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے’ وِکست بھارت سنکلپ یاترا ‘کو گرام پنچایتوں میں فلیگ شپ سکیموں تک پہنچنے کا ایک موقعہ قرار دیا تاکہ سکیموں کو زیادہ سے زیادہ پورا کیا جاسکے۔اُنہوںنے کہا کہ بھارت سنکلپ یاترا ایک ملک گیر پہل ہے جس کا مقصد شہریوں کے درمیان اتحاد اور تعاون کے جذبے کو فروغ دینا ہے، ملک کی ترقی اور ترقی کے لئے اِجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔اس تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت مستحقین کی جانب سے پیش کی جانے والی داستانوں کا اِشتراک تھا جن میں سے ہر ایک نے مختلف محکموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مختلف سرکاری سکیموں سے پیدا ہونے والی اپنی کامیابی کی داستانیں بیان کیں۔ ان داستانوںنے زندگی کو تبدیل کرنے اور کمیونٹی کی ترقی میں ان اَقدامات کے ٹھوس اثرات کو اُجاگر کیا۔اس پروگرام نے تعمیری تبادلہ خیال کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جس میں جامع ترقی کے حصول کے لئے حکومت اور مقامی کمیونٹیوں کے مابین مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔ سنگیتا گپتا نے بھارت سنکلپ یاترا کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے پی آر آئی ممبران کی لگن اور فائدہ اٹھانے والوں کی کی سراہنا کی۔ یہ تقریب معاشرے کے پسماندہ طبقوں بالخصوص قبائلی علاقوں کو بااِختیار بنانے اور ان کی ترقی کے لئے حکومت کے عزم کی مثال ہے۔ اس میں فلاحی سکیموںکی عمل آوری میں مشترکہ کوششوں کی کامیابی کو ظاہر کیا ۔










