ایک تحصیل کی آبادی ہنوز ایک فیڈر پر گزار کرنے پر مجور،لوگوں کو مشکلات کا سامنا
سری نگر// /موسم سرما سے قبل ہی جہاں وادی کشمیر میں بجلی سپلائی کے ہاہا کار کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہے ہیں وہی دوسری جانب سب ضلع ترال کے تحصیل آری پل کی آبادی تاحال ایک فیڈر پر ہی گزارہ کرنے پر مجبور ہو رہی ہے جس کی وجہ سے انہیںشدید پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کومقامی لوگوں کی ایک وفد نے بتایا کہ تحصیل کی وسیع آبادی کے لئے آج سے کئی سال قبل بجلی رسیونگ اسٹیشن کے تعمیر کو منظوری ،ل گئی ہے تاہم نا معلوم وجوہات کی بناء پر کافی مدت گزر جانے کے باجود یہ سٹیشن تعمیر نہیں ہوسکا ہے ۔انہوںنے بتایا تاہم سال2022ء میں باضابط طور پر بجلی کے اس رسیونگ اسٹیشن پر کام شروع کیا گیا اور دسمبر2022ء میں اسٹیشن کو عوام کے نام وقف کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے مزکورہ وقت پر بھی یہ اسٹیشن چالوں نہیں ہوسکا ہے ۔مقامی آبادی کے مطابق اس کے بعد لوگوں کو یہ بتایا کہ گیا ہے کہ اب یہ مارچ سے باضابط طور کام شروع کرے گا تاہم اکتوبر کا مہینے بھی ختم ہونے والاہے تاہم تا حال اس حوالے سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ایک تحصیل کی آبادی کو آنے والے سرمامیں بھی حسب معمول پریشانیو ں کے سامناکرنے کا خدشہ ہے۔لوگوں نے متعلقہ محکمے سے اپیل کی ہے کہ اسٹیشن کو فوری طور سرمام سے قبل عوام کے نام وقف کیا جائے ۔ ڈی ڈی سی آری پل منظور احمد نے بتایا کہ اسٹیشن کا کام مکمل ہے اور بہت جلد اس کو عوام کے نام وقف کیا جائے گا اور تحصیل آری پل کے آبادی کا دیرینہ خواب پورا ہوگا۔اس حوالے سے ایگزیکٹو انجینئر پی ڈی ڈی اونتی پورہ نے بتایا کہ سٹیشن تیار اور اب ہینڈ اور کرنا ہے جس کے لئے کچھ دن درکار ہیں انہوں نے بتایا کہ نور پورہ میں زیر تعمیر بجلی رسیونگ اسٹیشن بھی مکمل ہوا ہے اور پنچ پوائنٹس پر کام چل رہا ہے جس کے بعد محکمہ بجلی کے اس شاخ کو سٹیشن فراہم کیا جائے گا جو اس کے ساتھ منسلک ہے ۔










