شہرو گام میں بجلی کی آنکھ مچولی سے صارفین ذہنی اضطراب،محکمہ بجلی کے خلاف لوگ نالاں
سرینگر// ’’محکمہ بجلی نے صارفین پر بجلی گراتے ہوئے ‘‘پوری وادی میں اندھیرا قائم کیا۔ادھر جنوب و شمال میں بجلی کی ہاہا کار مچی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں میٹر نصب کئے گئے علاقوں میں محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے بغیر اعلان بجلی کٹوتی نے بحرانی صورتحال پیدا کردی ہے ۔اس دوران شہرو گام میں بجلی کی آنکھ مچولی نے صارفین کو ذہنی اضطراب اورشدید پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے ۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق موسم سرما میں وادی میں بجلی کی بحرانی صورتحال پیدا ہوتی ہے اوریہ سلسلہ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس حوالے سے تمام حکومتیں نہ صرف صارفین کو معقول اور مناسب بجلی کی سپلائی فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہیں بلکہ بجلی کے سپلائی نظام کو درست کرنے میں غیر سنجیدہ کا مظاہرہ کیا ہے ۔ مختلف ضلع مقامات ، قصبہ جات اور دور دراز علاقوں سے نمائندوں کے مطابق بجلی کی ابتر صورتحال اس قدر ہے کہ 24گھنٹوں میں صارفین کو مشکل سے ہی 6یا 8گھنٹے بجلی کی سپلائی فراہم کی جاتی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صارفین کو بجلی کی عدم دستیابی کے حوالے کس طرح تکلیف دہ صورتحال سے گذرنا پڑرہاہے۔ اس دوران شہر سرینگر کے جن علاقوں میں محکمہ بجلی نے میٹر نصب کئے اور اس وقت یہ وعدہ کیا کہ اب ان علاقوں میں 24گھنٹے بجلی سپلائی مہیا رہے گی لیکن لوگوں کے بقول ہر روز شام کو بجلی کٹوتی کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں ان علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو سردیوں کے ان ایام میں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔اس حوالے سے شہر خاس میں پوزیشن اس سے بھی بدتر ہے اور لوگ ذہنی تذبذب کے شکار ہو رہی ہے ۔اس دوران مقامی لوگوںنے نمائندے کو بتایا کہ اگرچہ ان علاقوں میں پہلے ہی محکمے کی طرف سے میٹر نصب کئے گئے ہیں اور لوگ باقاعدگی کے ساتھ بجلی فیس بھی ادا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بلا وجہ بجلی سپلائی میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں کے شدید ترین ایام کے دوران برقی سپلائی منقطع رہنے سے اْنہیں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی بھاری بلیں اداکرتے ہیں ،لیکن پورا علاقہ گھپ اندھیرے میں ہے۔مقامی صنعت کاروں نے بھی بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے سبب اْنہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے سبب اْنکے صنعتی یونٹوں پر منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ برقیات اور انتظامیہ بجلی کی متواتر سپلائی فراہم کرنے میں ناکام رہی۔










