بلندیوں اور دور دراز علاقوں کے ہر گاؤں کو ہر سہولت فراہم کرنے کیلئے ’وائبرنٹ ولیج پروجیکٹ شروع / امیت شاہ
سرینگر// دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں ملی ٹنسی میں کمی ریکارڈ کی گئی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں بہت سی تبدیلیاں دیکھی گئی کی بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ہماری فوج ایک مضبوط قوت بن کر ابھری ہے۔ جب خاندان اور ملک کو ان کی ضرورت ہوتی ہے تو اسی وقت وہ خاندان کے بجائے ملک کو ترجیح دیتے ہیں۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق دہرادون میں ایک انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے 62 ویں یوم تاسیس پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ 62 سال پہلے 7 ڈویڑنوں کے ساتھ شروع ہونے والی آئی ٹی بی پی آج 60 صوبوں ،17 تربیتی مراکز، 5 فرنٹیئرز اور 2 کمانڈو ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ایک لاکھ اہلکاروں کے ساتھ ایک مضبوط قوت بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے کہا ’’جب آپ کے خاندان کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے تو اسی وقت ملک کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن آپ ملک کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’مودی جی نے ایک چیز کے بارے میں سوچا تھا کہ کیا ڈرون اونچائی پر واقع دیہاتوں میں زندگی بچانے والی اشیاء پہنچا سکتے ہیں۔ آج پہلا ڈرون 15 کلو ادویات اور سبزیاں لے کر دور دراز کے علاقے میں پہنچا ہے، یہ ایک بڑی شروعات ہے۔ آئی ٹی بی پی، مرکزی مسلح پولیس فورس میں سے ایک جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے، قراقرم پاس سے اروناچل پردیش، سکم، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش جموں و کشمیر اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ چلنے والی 3,488 کلومیٹر طویل ہندوستان چین سرحد کی حفاظت کیلئے ذمہ دار ہے‘‘۔اس موقعہ پر مزید، تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعدکشمیر میں تمام اشاریوں میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ملک میں بہت سی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ دفعہ370 کے خاتمے کے بعد دہشت گردی پر قابو پالیا گیا ہے۔ تمام اشاریوں میں کمی آئی ہے۔ شمال مشرق میں بھی کامیابیاں ملی ہیں۔ ان واقعات میں 65 فیصد کمی آئی ہے اور ہم نے عسکریت پسندی کی سرگرمیوں میں بھی 80 فیصد کمی دیکھی ہے۔‘‘وزیر داخلہ نے بلندیوں اور دور دراز علاقوں کے ہر گاؤں کو ہر سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے ’وائبرنٹ ولیج پروجیکٹ‘ پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا ’’اب مودی جی نے وائبرنٹ ولیج پروجیکٹ لیا ہے۔ یہ ایک نیا تصور ہے۔ پہلے ہم سرحد پر واقع گاؤں کو ملک کا آخری گاؤں کہا کرتے تھے۔ لیکن پی ایم مودی وہاں گئے اور کہا کہ یہ آخری گاؤں نہیں بلکہ ملک کا پہلا گاؤں ہے۔ ان دیہاتوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔










