غزہ کا مرکزی پاور پلانٹ اسرائیل کی بمباری اور محاصرے کے دوران ایندھن کے خاتمے پر بند کردیا گیا جہاں اسرائیل نے بدترین فضائی حملوں کے بعد کہا ہے کہ حماس سے سرحدی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور اب جلد زمینی کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
غیرملکی خبر ایجنسیوں اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی کے لیے بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے سربراہ جلال اسمٰعیل نے بیان میں کہا کہ غزہ کا واحد پاور پلانٹ دوپہر کو 2 بجے بند ہوگیا ہے اور اس سے قبل خبردار کیا گیا تھا کہ ایندھن ختم ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر توانائی اسرائیل کاٹز نے بیان میں کہا کہ ہم نے پانی کی فراہمی، بجلی اور ایندھن کی فراہم بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ان کا مقامی پاور پلانٹ بند ہوگیا ہے اور غزہ میں بجلی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک محاصرہ جاری رکھیں گے جب تک اسرائیل اور دنیا کے لیے حماس کا خطرہ ختم نہیں کیا جاتا۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کے پاس دو ہفتوں سے کم وقت کے لیے کھانے اور پانی کا ذخیرہ رہ گیا ہے جہاں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد فلسطینی موجود ہیں اور وہ غزہ میں ان کے اسکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ ہفتے سے اب تک پرہجوم ساحلی علاقے میں کم از کم ایک ہزار 55 افراد جاں بحق اور 5 ہزار 184 زخمی ہوچکے ہیں جب کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے اور 2700 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں، اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ علاقے سے تقریباً 1500 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ میں متوقع اسرائیلی زمینی دراندازی سے قبل ان مقامات پر علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں جہاں سے حماس نے ہفتے کو یہودی بستیوں پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے شروع کیے تھے۔ اسرائیل نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں فلسطینی گروپ حماس سے کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔
حماس کے حملے کی تعریف کرنے والے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے رام اللہ کے شہری 52 سالہ کافی فروش فرح السعدی نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں اسرائیل کو ہمیں مارتے، ہماری زمینوں پر قبضہ کرتے اور ہمارے بچوں کو گرفتار کرتے دیکھا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے قریب اور لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر 3 لاکھ ریزرو فوجیوں اور بڑے پیمانے پر ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیاروں کو طلب کیا ہے۔
فوج نے کہا کہ فورسز نے بڑے پیمانے پر غزہ کے ارد گرد جنگ زدہ جنوب اور سرحد پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور ایک درجن سے زائد قصبوں سے حماس کے جنگجوؤں کو بے دخل کر دیا ہے۔اے ایف پی کے فوٹوگرافر اور ایک این جی او نے بتایا کہ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے 24 گھنٹوں میں تیسری بار فضائی حملہ غزہ کی مصر کے ساتھ سرحد رفح کراسنگ پر ہوا۔پرانے شہر میں ایک دکان کے مالک احمد کارکاش نے کہا کہ اسرائیلی لوگ عربوں سے ڈرتے ہیں اور عرب یہودیوں سے ڈرتے ہیں، ہر کوئی ایک دوسرے سے ڈرتا ہے۔










