سرینگر// امامیہ فیڈریشن کشمیر کےصدر جناب غلام حسن مجروح نے امسال ایام عزا کے دوران سید شہدا حضرت امام حسین علیہ سلام کے عزا داروں کے جلوس ہاے عزا ۔ مجالس اور دیگر پرگراموں کے دوران انتہائی نظم و ضبط کے شاندار مظاہرے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینی جانثاروں نے اپنے شاندار طرز عمل سے ثابت کیاہے کہ وہ ایک مہذب اور متمدن قوم ہےاور ساتھ ہی ملت اسلامیہ سے وابستہ دیگر فرقوں نے جس طرح پورے عشرئہ محرم کے دوران حسینی عزاداروں کے شانہ بشانہ سبیلیں لگا کر اور امن وامان کو برقرار رکھنے میں رضاکارانانہ خدمات انجام دیں وہ ہر لحاظ سے قابل سراہنا ہے؛بیان میں کہا گیا کہ پورے عشرئہ محرم کے دوران کشمیر کے روایتی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا جو مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ ملت کشمیر کا عظیم سرمایہ ہےحتی کہ اس دوران یہاں کے غیر مسلم بھائیوں نے جس ایثار کا مظاہرہ کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ حضرت امام حسین علیہ سلام کی ذات مقدس سےہر مذہب کے ماننے والے یکساں محبت کرتے ہیں۔ بیان میں گورنر انتظامیہ کی جانب سے ایام محرم کے دوران عزاداروں کیلئے ہر طرح کی سہولیات بہم رکھنے ،امن امان، اشیایہ ضروریہ، بجلی، پانی اور دیگر اشیا بہم رکھنے اور خصوصاً 34 سال کے بعد آٹھ محرم کے تاریخی جلوس پر سے پابندی اٹھانے اور اس کو روایتی گذر گاہوں سے نکالنے کی اجازت دینے پر گورنر انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا تاہم صدر فیڈریشن نے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ اگر حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں تو عاشورہ کے تاریخی جلوس کو بھی اس کے روایتی روٹ پر نکالنے، میلادالنبیﷺ کے جلوس کو نکالنے اور مسلمانان کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی بھی اجازت دی جانی چاہئے اور یہاں کی عوام کے جذبات، احساسات اور ان کی مذہبی آزادی کا احترام کرتے ہوے میر واعظ کشمیر جناب مولوی محمد عمر فاروق کو اپنے منصبی فرائض قال اللہ و قال الرسولﷺ کا فریضہ انجام دینے اور ان کی پر امن سر گرمیوں پر سے پابندی اٹھائی جانی چاہئے۔ صدر فیڈریشن نے ملت شعیہ سے وابستہ علمائے کرام کے ایام عزا خصوصاً جلوس ہائے کے دوران ان کے مثبت رول کو قابل تحسین قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ قوم و ملت اور دین کے مفاد میں ان ذمہ دار علمائے کرام کا باہمی تعاون اور رواداری کا یہ مظاہرہ جاری رہے گا۔ جاری کردہ امامیہ فیڈ ریشن کشمیر










