3برسوں میں تقریباً10ہزار لڑکیاں اورخواتین لاپتہ،1148لڑکیوںکی عمر18سال کم اور 8617خواتین کی عمر18سال سے اوپر:مرکزی وزیر
سری نگر//حالیہ کچھ برسوں کے دوران خواتین کے خلاف جرائم میں تقریباً16فیصد کااضافہ درج ہونے کے بیچ اسبات کاسنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ جموں و کشمیر میں سال2019 سے 2021 کے محض3سالوں میں تقریباً 10 ہزار خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں،جن میں سے1148لڑکیوںکی عمر18سال کم اور 8617لڑکیوں وخواتین کی عمر18سال سے زیادہ ہے ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی حکومت کے ایک چونکا دینے والے انکشاف میں کہاہے کہ، جموں و کشمیر سے 2019 سے 2021 کے درمیان تقریباً10 ہزار خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا نے بدھ کے روزایک سوال کے جواب میں راجیہ سبھا کو بتایا کہ جموں کشمیر میں2019 سے تقریباً10 ہزار خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔انہوںنے پارلیمان کے ایوان بالا کو بتایا کہ جموں کشمیر میں 2019 سے اب تک18 سال سے اوپر اور اس سے نیچے عمر کی 9765 خواتین اپنے گھروں سے لاپتہ ہو چکی ہیں۔خواتین اور نوعمر ونوجوان لڑکیوںکی گمشدگی سے متعلق رپورٹ کے مطابق2019 سے2021 تک کے اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیرمیں ان 3 سالوں میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے 1148 کیسز سامنے آئے اور 18 سال سے زائد عمر کی 8617 خواتین لاپتہ ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق ابھی تک ان لاپتہ شدہ لڑکیوں اور خواتین کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال2019 میں 18 سال سے کم عمر کی 355نابالغ لڑکیاں لاپتہ ہوئیں جبکہ اس دوران 18سال سے زیادہ عمر کی2738 خواتین لاپتہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگلے سال یعنی2020میں 18سال عمر سے کم کی 355لڑکیوں اوراس عمر سے زیادہ کی2701لڑکیوں اور خواتین لاپتہ ہوئیں۔ جموں کشمیر سے سال 2021 میں 3178 خواتین لاپتہ ہوئیں جن کی عمریں 18 سال یا اس سے زیادہ تھیں، جب کہ 18 سال سے کم عمر کی 443 لڑکیاں بھی لاپتہ ہوئیں۔بتایاجاتا ہے کہ جموں کشمیر UT فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ خواتین کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں دہلی سرفہرست ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں خواتین سے متعلق مسائل یعنی خواتین مخالف جرائم پرقابو پانے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں، جن میں تفتیشی عملے کو خواتین مجرموں اور مشتبہ افراد کی گرفتاریوں، تلاشیوں اور پوچھ گچھ میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔اپریل 2016 میں، اننت ناگ، بارہمولہ، راجوری اور ادھم پور کے اضلاع میں ایک ایک خواتین پولیس اسٹیشن بھی بنائے گئے، اور 208 آسامیاں منظور کی گئیں (ہر ایک خواتین پولیس اسٹیشن کے لیے 52اہلکار،ایک انسپکٹر،ایک سب انسپکٹر ،2اسٹنٹ سب انسپکٹر،6ہیڈکانسٹیبل،34کانسٹیبل اور8پیروکار)شامل ہیں۔جموں وکشمیر میں خواتین پولیس کی افرادی قوت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور ریاست کی کچھ خواتین افسران کو ریاستی سول سروسز امتحان کے ذریعے براہ راستDySP رینک پر بھرتی کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) نے اپنی 2022کی رپورٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر میں خواتین کیخلاف جرائم میں گزشتہ سال کے مقابلے 2021 میں 15.62 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں 7000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔NCRBکی رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کیخلاف جرائم میں 2019 سے 2021 تک مسلسل اضافہ ہوا، 2021 میں سب سے زیادہ 3937 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ 2020 میں یہ تعداد 3405 تھی۔ 2019 میں، 3069 ایسے واقعات درج ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں عصمت دری کے315، عصمت دری کی کوشش کے 1414 واقعات اور جہیز کی وجہ سے 14 اموات درج کی گئیں اور اتفاق سے عصمت دری میں ملوث 91.4 فیصد ملزمان متاثرہ کے جاننے والے تھے۔1851 مقدمات بھی درج کیے گئے جن میں خواتین پر ان کی عزت کو مجروح کرنے کی نیت سے حملہ کیا گیا۔










