سال2014میں5400ملازمین ادارے میں تعینات تھے کئی شعبہ جات بڑھانے کے باوجوداس وقت کل2ہزار تعینات:اشتیاق بیگ
سری نگر//شیر کشمیر انسٹچیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ (سکمز)سرینگر میں گزشتہ چند سال کے دوران متعدد نان گزٹیڈ ملازمین نوکری سے سبکدوش ہوئے جبکہ ہسپتال میں کئی شعبوں کو بڑہانے کی وجہ سے افراد قوت کی ضرورت کے باجود اضافہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں تعینات عملہ طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہے ۔ذرائع کے مطابق ادارے میں سال2014میں 5400نان گزٹیڈ ملازمین یہاں کام کر رہے تھے جبکہ دس سال کے دوران کئی نئی بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت یہ تعداد قریباً2000ہزار تک پہنچ گیا ہے کیوںکہ رٹائر ملازمین کی جگہ کوئی اور تعینات نہیں ہوا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کو نان گزٹیڈ ائمپلائز یونین کے صدر اشتیاق بیگ نے بتایا کہ جہاں ادارے میں پہلے ہی عملے کی قلت تھی وہی دوسری جانب سے متعدد ملازمین نوکریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔انہوں نے بتایا ادارے میں خواتین امراض کے شعبے کو اپگریڈ کیا گیا،برن وارڑکا قیام،کینسراسٹچیوٹ کا تعمیر،جہاں اور ملازمین کو تعینات کرنا تھا لیکن کسی کو نہیں کیا گیا ہے اور پرانے عملے سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پرانے عملے کو کام کا انتہائی زیادہ دباو بڑ گیا ہے ۔انہوں نے کہا جس انداز سے یہاں کوئی تعینات نہیں ہو رہا ہے اسے ایسا لگتا ہے کہ سرکار کو ہسپتال چلانے کا موڈ نہیں ہے اشتیاق بیگ نے ہسپتال کی شان رفتہ بحال کرنے اور نان گزٹیڈ عملے کو تعینات کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کے سرکار سے مطالبہ کیا۔انہوں نے بتایا ادارے میں تقریباً1000بسترے ہیں ۔اس سلسلے میں ارزو اور جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ سمیت کئی وفودبھی سلمان ساگر سمیت دیگر کئی حکام سے ملاقی ہوا ہے جس نے اس اہم مسائل کو ان کے مسائل کو جاگر کیا ہے ۔










