mohammad aijaz asad

ضلع مجسٹریٹ سری نگرنے عوامی مقامات پر ’ تیز دھار ہتھیاروں ‘ کی خرید و فروخت اور لے جانے پر پابندی عائد کی

سری نگر//ضلع مجسٹریٹ سری نگر محمد اعجاز اَسد نے آ ج ضلع سری نگر کے کئی علاقوں بشمول قمرواری ، بمنہ ، کرالہ پورہ ، بتہ مالو ، نوہٹہ ، کوٹھی باغ، رام باغ میں حالیہ چھرا گھونپنے کے واقعات کے پیش نظرضلع میں عوامی مقامات پر ’ تیز دھار ہتھیاروں‘ کے سامان کی خرید و فروخت اور لے جانے پر پابندی عائد کی ہے۔اِس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ سری نگر کی طرف سے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جبکہ مواصلات نمبر CS/07-23/31489-91 بتاریخ12 ؍ جولائی 2023ء سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس سری نگر نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ضلع سری نگر میں تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے چھرا گھونپنے/حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی سری نگر نے مذکورہ بذریعہ خط رواں برس کے گذشتہ تین مہینوں کے دوران سری نگر کے قمرواری ، بمنہ ، کرالہ پورہ ، بتہ مالو ، نوہٹہ ، کوٹھی باغ ، رام باغ وغیرہ کی جیبوں میں چھرا مار کے واقعات کا خاکہ تیار کیا ہے۔حکمنامے میں کہا گیا کہ عوام کی حفاظت اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے اور عوامی مقامات پر تیز دھار ہتھیاروں کے اِستعمال سے متعلق واقعات شہریوں کی زندگی اور حفاظت کے لئے ایک اہم خطرہ ہیںجبکہ ضلع سری نگر کے علاقائی دائرہ اختیار میں لوگوں کی طرف سے تیز دھار ہتھیار لے جانے کے عمل کو روکنا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔ اِس حکمنامے کے مطابق گھریلو، زرعی، سائنسی اور صنعتی مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے ’تیز دھار ہتھیاروں کا ‘جس کا بلیڈ 9 اِنچ سے زیادہ لمبا ہو یا جس کا بلیڈ 2 اِنچ سے زیادہ چوڑا ہو، رکھنا آرمس ایکٹ 195 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’میںڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سری نگر، مجھے یو/ایس 144 سی آر پی سی میں حاصل اِختیارات کی بنا ء پر فوری طور پر ضلع سری نگر کے علاقائی دائرہ اِختیار میں عوامی مقامات پر تیز دھار ہتھیاروں کی فروخت ، خریداری اور لے جانے پر پابندی عائد کرتا ہوں۔ پابندی کا اطلاق ایسے ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں مصروف کاروباری اداروں پر ہوگا۔ ’تیز دھار والے ہتھیار‘ میں کوئی بھی ایسی چیز یا آلہ شامل ہوگا جس میں بلیڈ، تیز دھار، یا پوائنٹ ہو جو افراد کو چوٹ پہنچانے یا نقصان پہنچانے کے قابل ہو، بشمول چاقو، تلوار، خنجر، بکس کٹر، اور استرا تک محدود نہیں۔ ’عوامی مقامات‘ میں سڑکوں، پارکوں، تفریحی مقامات، عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولیات، بازاروں، سکولوں، مذہبی مقامات، سرکاری عمارتوں اور عام لوگوں کے لئے قابل رسائی دیگر مقامات شامل ہوں گے۔‘‘حکمنامے میںمزید کہاگیا ہے کہ ’’پابندی کا اطلاق تمام افراد پر ہوگا سوائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ ایسے افراد جن کے پاس جائز پیشہ ورانہ مقاصد کے لئے ایسے ہتھیار ہیں (مثلاً قصاب، بڑھئی، الیکٹریشن، باورچی وغیرہ)‘‘۔ مزید برآں، حکمنامے میں لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ ’’کوئی بھی شخص جس کے پاس کوئی بھی تیز دھار ہتھیار ہے اسے اگلے 72 گھنٹوں کے اندر قریبی پولیس سٹیشن میں سپرد کرے گا جس کے بعد اس طرح کے ہتھیاروں کو ضلع پولیس سری نگر ضبط کرے گی اور اس کے تحت مناسب قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔‘‘ضلع مجسٹریٹ کے حکمنامے کے مطابق’’ اس حکم کی کسی بھی خلاف ورزی پر سختی سے نمٹا جائے گااور تعزیرات ہند 1860 کی دفعہ 188 کے مطابق مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘حکمنامے میں کہا گیا کہ’’ سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس سری نگر اس حکم کو صحیح معنوں میں نافذ کرے گا۔‘‘