4عدم شناخت شدہ غیر ملکی ملی ٹنٹ ہلاک

’آپریشن ترنیترا II‘کے تحت ضلع پونچھ میں وسیع پیمانے پر ملی ٹنٹ مخالف آپریشن

چاروںکی نعشیں اور بڑی مقدار میں اسلحہ وگولی بارود نیز دیگر موادبرآمد:دفاعی ترجمان

پونچھ،جموں//جموں خطے کے سرحدی ضلع پونچھ کی سرنکوٹ پٹی کے سندھاراٹاپ علاقے میں رات بھر جاری رہنے والی خونین معرکہ آرائی میں 4ملی ٹنٹ مارے گئے ،جن کے بارے میں سیکورٹی حکام کاکہناہے کہ عدم شناخت شدہ مہلوک ملی ٹنٹوںمیں زیادہ تر غیرملکی ہیں۔دفاعی ترجمان اور اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ نے 4عدم شناخت شدہ ملی ٹنٹوںکی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس پورے علاقے میں ’’آپریشن ترنیترا II‘‘کے تحت فوج اور پولیس نے وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی جاری رکھی ہے۔سیکورٹی حکام کو اندیشہ ہے کہ16اور17جولائی کی درمیانی رات ناکام بنائی گئی دراندازی کی کوشش ،جس میں2دراندا زمارے گئے ،کے دوران کچھ ملی ٹنٹ سرحدی پٹی میں جنگل میں چھپے ہوسکتے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق ضلع پونچھ کے علاقے سرنکوٹ کے سندھارا ٹاپ علاقے میں پیر کی سہ پہر فوج اورجموں وکشمیرپولیس کی جانب سے مصدقہ اطلاع ملنے پر شروع کی گئی تلاشی کارروائی کے دوران شم کے وقت یہاں موجود ملی ٹنٹوں کاسیکورٹی فورسزسے سامناہوا،جسکے بعد یہاں مزید فوجی کمک طلب کرکے اس پورے علاقے کو سخت گھیرے میں لیاگیا۔سیکورٹی حکام نے بتایاکہ پیر کو رات کے تقریباً ساڑھے11بجے پہلی جھڑپ ہونے کے بعد اس علاقے میں رات کی نگرانی کے دیگر آلات کیساتھ ڈرون کو بھی تعینات کیا گیا۔دفاعی ترجمان نے جموںمیں کہاکہ ’’آپریشن ترنیترا II‘‘کے تحت فوج اور پولیس کی جانب سے اس علاقے میں منگل کی صبح پھر تلاشی کارروائی شروع کی گئی ،اوراس دوران سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ ایک بار پھر انکاؤنٹر شروع ہوا۔ترجمان نے کہاکہ فوج کی اسپیشل فورسز، راشٹریہ رائفلز اور جموں و کشمیر پولیس کے دستے دیگر فورسز کے ساتھ اس آپریشن کا حصہ تھے۔ اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ نے بتایا کہ پیر کی رات سرنکوٹ پٹی کے سندھارا ٹاپ علاقے میں فوج اور پولیس کی طرف سے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ وائٹ نائٹ کور نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ’’آپریشن ترنیترا II‘ کے تحت ایک بڑے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی میں، مخصوص انٹیلی جنس پر عمل کرتے ہوئے، ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ میں سندھارااور میدانا گاؤں کے قریب فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی میں4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔انہوںنے بتایاکہ جائے جھڑپ سے مارے گئے چاروں دہشت گردوںکی نعشوں کے علاوہ4،اے کء 47رائفلز،2 پستول اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا۔ وائٹ نائٹ کور نے مزید کہاکہ ان دہشت گردوں کے خاتمے سے راجوری اور پونچھ کے علاقے میں شروع ہونے والے بڑے دہشت گردانہ واقعات سے بچا گیا ہے۔تاہم دفاعی ذرائع نے بتایاکہ اس پورے علاقے میں فوج ،فورسزاور جموں وکشمیر پولیس نے وسیع علاقے کو مسلسل محاصرے میں رکھ کر تلاشی کارروائی جاری رکھی ہے ،کیونکہ 16اور17جولائی کی درمیانی رات ناکام بنائی گئی دراندازی کی کوشش ،جس میں2دراندا زمارے گئے ،کے دوران کچھ ملی ٹنٹ سرحدی پٹی میں جنگل میں چھپے ہونے کااندیشہ ہے ۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فرار ہونے کے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور آپریشن کے دوران دن رات سخت نگرانی رکھی جارہی ہے۔حکام نے مزید بتایاکہ سرحد پار سے مسلح دہشت گردوں، ہتھیاروں اور منشیات کو دھکیلنے کی کوششوں کے پیش نظر پونچھ بھر میں گاڑیوں کی بے ترتیب تلاشی اور سرپرائز چیکنگ کو تیز کر دیا گیا ہے۔ادھر فوج کی راسٹریہ رائفلز سرنکوٹ کے6 سیکٹر کے کمانڈر نے ایس ایس پی پونچھ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ طویل عرصے سے سورنکوٹ میں کام کر رہا ہے اور علاقے کے امن و سکون کو خراب کر رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ان کی طرف سے کئے گئے دو حالیہ واقعات نے انہیں اس طرح کی مذموم سرگرمیوں کو انجام دینے کی ہمت دی تھی۔فوج کے اعلیٰ افسر نے کہاکہ ان چارملی ٹنٹوں کے خاتمے کے ساتھ، خوشحالی اور ترقی کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کمانڈر نے کہا کہ ہندوستانی فوج گزشتہ تین ماہ سے ’’اوپ ترنیترا‘‘ کے ایک حصے کے طور پر مسلسل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوںنے بتایاکہ اسی کے ایک حصے کے طور پر 16 جولائی کو سندھرا – بچیاں والی اور میدان میں نامعلوم افراد کی نقل و حرکت کے بارے میں ان پٹ موصول ہوا۔ اس کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔فوجی کمانڈر نے مزید کہاکہ17 جولائی کو گاؤں سندرہ اور میدان کے قریب ملی ٹنٹوں کی موجودگی کے بارے میں مخصوص انٹیلی جنس موصول ہوئی تھی جو ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر،، فوج اور پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ نے مزید علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ایک موثر محاصرہ قائم کرنے کے بعد فوجیوں نے اپنی تلاشی کارروائیاں شروع کیں اور گاؤں سندھراہ کے قریب پہنچ ۔4ملی ٹنٹ جنہوں نے فوجیوں کو دیکھتے ہی گاؤں کے قریب جنگل میں پناہ لی ۔ انہوں نے قریب آنے والے فوجیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔انہوں نے مزید کہاکہ ان کی فائرنگ کا فوری جواب دیا گئیگیا اورملی ٹنٹوںکو ہلاک کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند علاقے، جنگل کے پودوں اور خراب موسم کا استعمال کرتے ہوئے محاصرے کو توڑنے کی مایوس کن کوشش میں فوجیوں پر گولیاں چلاتے رہے۔فوجی کمانڈر کاکہناتھاکہ بہترین قیادت اور ہندوستانی فوج اور جموں کشمیر پولیس کے درمیان ہم آہنگی کے مظاہرے میں اپنے دستوں نے ملی ٹنٹوںکو فائرنگ کا جواب دینے میں اعلیٰ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔انہوںنے بتایاکہ جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ تقریباً ساڑھے5 بجے تک جاری رہا جس کے بعد جنگجوؤں کی جانب سے کوئی گولہ باری نہیں ہوئی۔ تاہم، انہوں نے کہاکہ فوجیوں نے پھنسے ہوئے ملی ٹنٹوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے سب سے زیادہ چوکس رہنے کا سلسلہ جاری رکھا۔فوجی کمانڈر کاکہناتھاکہ منگل کوعلی الصبح علاقے کی تفصیلی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے نتیجے میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا جس میں چار اے کے 47 رائفلیں،2،9 ایم ایم پستول بمعہ میگزین اور راؤنڈز بھی برآمد ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں4ملی ٹنٹوں کی لاشیں بھی ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بھاری ہتھیاروں سے لیس ملی ٹنٹوں کی اندرونی علاقوں میں موجودگی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا اشارہ ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ (ملی ٹنٹ) آنے والے دنوں میں بڑی وارداتیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں جانیں بچائی گئی ہیں اور خطے میں امن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں سیکورٹی فورسز کی انتھک کوششوں کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔فوج کی راسٹریہ رائفلز سرنکوٹ کے 6 سیکٹر کے کمانڈر نے کہا کہ پڑوسی اس خطے کو پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی باشندے پاکستانی اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ دراندازی کر رہے ہیں اور مقامی لوگوں کے پرامن وجود میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔فوجی کمانڈر نے مزید کہاکہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ رابطے ان کے ارادوں کی گواہی دیتے ہیں۔ سرلا اور نوشہرہ سیکٹر میں دراندازی کی ناکام کوشش خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے اس کے گیم پلان کا حصہ ہے۔