ڈاکٹروں سمیت مختلف زمروںکی275اسامیاں برسوں سے خالی
سری نگر//اسبات کاتوجہ طلب انکشاف ہواہے کہ سری نگرمیں قائم سب سے پرانے اورتاریخی اہمیت کے حامل اولین سرکاری شفاخانے SMHSیعنی صدر اسپتال میں ڈاکٹروں سمیت طبی ونیم طبی عملہ کی275اسامیاں خالی پڑی ہیں ،جسکی وجہ سے ہمہ وقت بھاری رش میں رہنے والے اس اہم اسپتال میں طبی خدمات اورسہولیات اثرانداز ہورہی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق حق اطلاع قانون کے تحت دائر ایک درخواست کے جواب میں متعلقہ محکمہ نے یہ جانکاری فراہم کی ہے کہ صدراسپتال سری نگرمیں 275اسامیاں خالی پڑی ہیں ،جن میں کئی ڈاکٹروں اوردوسرے عملے کی اسامیاں بھی شامل ہیں ۔اس دوران ایک میڈیا رپورٹ میں سرکاری ریکارڈ کاحوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ کیاگیاہے کہ صدر ہسپتال سری نگر میں9 ماہ کے دوران مختلف امراض میں مبتلاء کم از کم 2169 مریضوں کی موت واقعہ ہوئی ہے۔ریکارڈ کے مطابق یہ اموات ہسپتال میں جنوری 2022 سے ستمبر 2022 تک ہوئیں۔ حکام کے مطابق مریضوں کی موت متعدد وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔ایک سماجی کارکن ایم ایم شجاع کی جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت دائر کی گئی درخواست کے جواب میں، اسپتال کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران SMHSسری نگرمیں 15ہزار726بیماروںکی جراحیاں یا سرجریاںکی گئیں۔صدر ا سپتال کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے گولڈن کارڈ اسکیم کے تحت14177 مریضوں کی رجسٹریشن کی ہے جس کیلئے یہاں 6 رجسٹریشن کاؤنٹر قائم کئے گئے ہیں۔ جہاں تک نئے انفراسٹرکچر کی ترقی کا تعلق ہے،تو ہسپتال حکام نے کہا ہے کہ ایسی کوئی نئی تعمیر نہیں کی گئی، تاہم ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے احاطے میں ایک پروجیکٹ (علیحدہ او ٹی بلاک) پر کام جاری ہے جو کہ2017 سے زیرتکمیل ہے،اور مستقبل قریب میں مکمل ہوگا۔صدر اسپتال کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ مختلف زمروں کی 275 آسامیاں اب بھی خالی ہیں۔










