omar abdullah and mehbooba mufti

سپریم کورٹ سے فیصلہ جلد آنے کی اُمید:عمر عبداللہ

اقتدار کی قربان گاہ پرملکی آئین قربان نہیں ہو گا:محبوبہ مفتی

سری نگر//سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے منگل کو جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ سے جلد فیصلے کی امید ظاہر کی۔جے کے این ایس کے مطابق عمرعبداللہ نے سری نگرمیں نامہ نگاروں کو بتایاکہ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ یہ کبھی نہ ہونے سے بہتر ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم2019 سے اس سماعت کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر ہمارا موقف درست ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کیس مضبوط ہے۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ درخواستوں پر سماعت جلد ختم ہو جائے گی،ان کاکہناتھاکہ اس سماعت کے ساتھ بہت سی چیزیں منسلک ہیں،اورہمیں انصاف کی توقع ہے۔عمرعبداللہ نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ہمیں امید ہے کہ سماعت جلد ختم ہو جائے گی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد ہمارے سامنے آئے گا۔نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ مسعود حسینی نے کہا کہ ان کے پاس ایک مضبوط کیس ہے اور وہ اس معاملے پر جلد فیصلے کی امید کرتے ہیں۔اُدھر سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کے حلف نامے پر بھروسہ نہ کرنے کا معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے پاس آرٹیکل 370کو غیر قانونی طور پر ختم کرنے کا جواز پیش کرنے کے لیے کوئی منطقی وضاحت نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی کے بقول چار سال تک خاموش رہنے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کا فیصلہ بدگمانی کو جنم دیتا ہے۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ امید ہے کہ اس ملک کا آئین جس کی عدلیہ قسم کھاتی ہے، اقتدار کی قربان گاہ پر قربان نہیں ہو گا تاکہ ان لوگوں کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کیا جائے جو اس معاملے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔سینئر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک مثبت مداخلت ہے۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اگرچہ دیر ہو چکی ہے کیونکہ اس میں چار سال لگ چکے ہیں، اس کے باوجود اس نے جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو ایک مثبت پیغام بھیجا ہے۔بائیں بازو کے رہنما نے مزید کہاکہ ہمیں امید ہے کہ انصاف ملے گا۔