دریاء چناب اور جہلم میں سطح آب میں اضافہ،عوام سے احتیاط کی کی اپیل
سرینگر//جموںو کشمیر میں ٹنل کے آر بار شدید بارشوں کا سلسلہ تیسرے دن تھم گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔جبکہ سرینگر جموںقومی شاہراہ تیسرے روز بھی اتوار کو آمد رفت کے لئے بند رہی تاہم شاہراہ کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے ۔ ادھردریاء چناب اور جہلم کے سطح آب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ انتظامیہ نے عوام سے احتیاط کی کی اپیل۔اس دوران امرناتھ یاترا جموں و کشمیر کے پنجترنی، شیشناگ بیس کیمپوں سے3 دن کے بعد دوبارہ بحال کی گئی ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق جموںو کشمیر میں اتوار کے دو دن سے جاری بارشوں کے بعد سلسلہ تھم گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔ ادھر جموں کے خطہ چناب کے مختلف اضلاع میں دو دن کے دوران شدید بارشیں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں دریائے چناب کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اس دوران کئی مقامات پر سڑکیں بھی ڈہہ گئی ہے جبکہ انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں سے نکلنے اور چناب کے نذدیک جانے سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر وادی کشمیر میں بہنے والے دریائے جہلم کی سطح میں بھی از حد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اتوار کے صبح یہاں پانی کافی حد تک بڑ گیا ہے تھا ۔تاہم آخری اطلاعات ملنے تک پانی خطرے کے نیچے سے ہی بہہ رہا تھا۔مسلسل بارشوں کے بعد دو روز تک یاترا معطل رہنے کے بعد بحال کر دی گئی ہے ۔حکام نے اتوار کوبتایا کہ کشمیر میں خراب موسم کی وجہ سے تین دن تک معطل رہنے کے بعد اتوار کو امرناتھ یاترا پنجترنی اور شیشناگ بیس کیمپوں سے دوبارہ شروع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی غار کی عبادت گاہ کے آس پاس آسمان صاف ہوا، حکام نے دروازے کھول دیے اور پھنسے ہوئے عقیدت مندوں کو جنوبی کشمیر ہمالیہ میں قدرتی طور پر بنے برف کے لنگم میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی پنجترنی بیس کیمپ کے ایک سینئر اہلکار نے فون پر بتایا کہ ’’وہ عقیدت مند جو پہلے ہی ’درشن‘ کر چکے ہیں انہیں بالتل بیس کیمپ واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے۔دریں اثنا، فوج نے 700 سے زیادہ امرناتھ یاتریوں کو اننت ناگ ضلع کے قاضی گنڈ میں اپنے کیمپ میں پناہ دی ہے جب وہ وادی میں شدید بارش کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے۔










