کیا یہ واقعی ’’عید‘‘ ہے؟

فرحان بارہ بنکوی

انسان خیر و شر کا پتلا ہے؛ چنانچہ اگر انسان اپنے نفس کا غلام ہوا تو وہ شرور و فتن اور معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ ہلاکت کی ایک عمیق کھائی کی طرف جاتا رہتا ہے؛ جب کہ رب العالمین کے مطیع و فرماں بردار اور شریعتِ اسلامیہ کے احکامات کا پابند شخص اپنے پروردگار اور اس کے رسول ﷺ کے حکموں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے؛ اسی بنا پر وہ عبادات کو ذوق و شوق سے ادا کرتا ہے۔ الٰہ العالمین کے ایک حکم: کتب علیکم الصیام (تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں) پر لبیک کہتا ہے اور شدید گرمی اور قہر برپا کرنے والی چلچلاتی دھوپ میں وہ رضائے الہی کے واسطے بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے اور ماہِ رمضان کے روزے ادا کرتا ہے۔
اپنے بندے کی اس فرماں برداری اور اطاعت شعاری پر شاعرِ ازل خوش ہوتا ہے، اس کی مغفرت کرکے اسے عید کا دن عطا کرتا ہے۔
عید خدا کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک انعام اور ایک تحفہ ہے۔ یہ انعام ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے حکم خداوندی کو مان کر اپنا سرِ تسلیم خم کر دیا اور ماہِ رمضان جیسے مقدس مہینے میں خدائے واحد و لا شریک کی منشا کے مطابق زندگی گزاری؛ چنانچہ ان لوگوں کے لیے عید بہ طورِ انعام ہے۔
عید ان کی نہیں جو جدید ملبوسات سے مزین و آراستہ ہوں؛ بلکہ عید تو ان کی ہے جو وعید سے ڈریں اور اپنی زندگی کو خالقِ کائنات کے حکموں کے مطابق گزارے اور اس کی منشا کے مطابق حیات مستعار کے ایام کو بسر کریں۔
عید ایک خوشی اور مسرت کا دن ہے؛ مگر حقیقی عید تو اس وقت ہے کہ جب ہم اپنے دلوں سے بغض و حسد، نفرت و کینہ کو نکال کر پھینک دیں اور محبت و الفت کو اپنے قلوب میں بھر دیں۔ صرف سویاں، شیر خورما بنا لینا خوشیاں نہیں ہیں؛ بلکہ خوشیوں کا ظہور تو اس وقت ہوگا جب آپس میں بغض و عداوت ختم کرکے ایک دوسرے کے گلے لگ جایا جائے اور اپنے بھائی سے بغل گیر ہوا جائے۔
صرف شیریں پکوان تیار کرکے رکھ دینا، یہ عید نہیں ہے؛ بلکہ اپنے کڑوے بول، تلخ لہجے، چیختی آواز کو میٹھے اور نرم لہجے میں بدل کر اپنے اعزا و اقربا کو اپنے سے قریب کر لینے کا نام عید ہے۔
ہمارے اسلاف کے دور میں عید وہ وقت ہوتا تھا جب سب لوگ اپنے دلوں کو صاف کرکے، پرانے گلے، شکوے ختم کرکے باہم شیر و شکر کی مانند زندگی گذر بسر کرنے کا ایک دلی عہد کرتے تھے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے تھے؛ مگر یہ ایسا وقت آن پہنچا ہے کہ جس میں رنجشیں، نفرتیں، عداوتیں، بغض و عناد، حسد و کینہ ہر سینے میں پل رہی ہیں۔ لوگ عید پر بھی ایک دوسرے کو گلے نہیں لگانا چاہتے ہیں۔
گذشتہ زمانے میں لوگ فقط برادرانِ اسلامی کو نہیں؛ بلکہ برادرانِ وطن کو گلا لگاتے تھے اور وہ بھی عید کی خوشیوں میں شرکت کرتے تھے؛ مگر اس دورِ ناگفتہ بہ کا یہ المیہ ہے کہ ملکی، مذہبی و مسلکی اور ذاتی منافرت نے دلوں کو دور کر دیا اور محبتوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
انسانی زندگی جو حزن و ملال اور فرحت و شادمانی کی سنگم ہے اور انسان خوشی و غم دونوں سے ہم کنار ہوتا تھا، اسے فقط نفرت و عداوت، غم و غصے اور رنج و الم کی نذر کر دیا ہے۔ دلوں میں ایسی نفرتیں ہیں کہ عید کے روز بھی لوگ ایک دوسرے سے نہیں ملتے، ایک دوسرے کو پھوٹی آنکھ نہیں بھاتے۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے پھرتے ہیں۔ ع

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی
اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں
یہ سوچنے اور غور و فکر کا مقام ہے کہ کیا یہ واقعی عید ہے؟؟؟