سپریم کورٹ کو شادی منسوخ کرنے کا حق حاصل

ملک میں بدعنوانی اور رشوت نے پورے نظام کوکھوکھلا کردیا

سماج کے لیے سنگین خطرہ ہے بدعنوانی‘ سختی سے نمٹا ضروری: سپریم کورٹ

سرینگر//سپریم کورٹ نے کہا کہ بدعنوانی سماج کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ سسٹم کو بھی روند دیتا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے کے ماہیشوری کی بنچ نے ان سخت ریمارکس کے ساتھ بدعنوانی کے معاملے میں انڈین ریونیو سروس کے ایک عہدیدار کو گجرات ہوئی کورٹ سے 19 دسمبر 2022 میں ملی عبوری ضمانت کو خارج کردیا۔ ا?ئی ا?ر ایس عہدیدار سنتوش کرنانی کو ہائی کورٹ سے ملی عبوری ضمانت کے خلاف سی بی ا?ئی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں ہائی کورٹ کو جرم کی نوعیت اور سنگینی کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔ جس کی وجہ سے عام لوگ سماجی بہبود کی اسکیموں کے فوائد سے محروم رہے اور وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بنچ نے مزید کہا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ بدعنوانی ایک درخت کی طرح ہے جس کی شاخیں بے حد لمبی ہیں اور ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں سے ٹپکنے والی بوندیں اہلکاروں کی کرسیوں اور اسٹولوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ عبوری ضمانت مسترد کرنے کے لیے وہ لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر پہلی نظر میں اپنا خیال ظاہر کررہی ہے۔ اگر جواب دہندہ نمبر 1 (کرنانی) باقاعدہ ضمانت کے لیے مناسب عدالت جاتے ہیں، تو ان کی درخواست پر قانون کے مطابق اور مقدمے کے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا اور اس عدالت کے ریمارکس کا اس پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔گجرات کے انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے 4 اکتوبر 2022 کو موصولہ شکایت کی بنیاد پر احمد آباد میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے مقامی پولیس نے جال بچھا کر اسی دن 30 لاکھ روپے رشوت کی رقم ضبط کر لی۔ اس معاملے کی جانچ بعد میں سی بی آئی کو سونپی گئی جس نے 12 اکتوبر کو دوبارہ ایف آئی آر درج کی۔ اس معاملے میں شکایت سفل کنسٹرکشن پرائیوٹ لمیٹیڈ نے درج کرائی تھی۔ الزام ہے کہ انکم ٹیکس کے ایڈیشنل کمشنر کرنانی نے کمپنی سے 30 لاکھ کی رشوت طلب کی تھی۔ اے سی بی نے کرنانی کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا لیکن وہ نہیں آئے اور ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت لے لی۔